گھر کا چراغ

ہمارے ایک دوست امریکہ گھومنے گئے تو اپنے ساتھ ایک چھوٹی سی صراحی اٹھا لائے۔ پاکستان پہنچ کر اس میں نا معلوم کسطرح پیٹرول ڈالا اور ایک بتی اڑس دی اور شعلہ دکھا کر بڑے فخر سے بتانے لگے کہ دیکھو یہ چراغ بنایا ہے۔ ہم نے انہیں بہتیرا سمجھایا کہ اسطرح‌ کے چراغ‌ کی روشنی سے بہتر ہے کہ آپ سستا سا بلب خرید لیں، بھلا صراحیوں میں بھی کوئی چراغ بناتا ہے وہ بھی اتنا سارا پیٹرول ڈال کر؟ لیکن وہ اپنے گھر کے چراغ پر پھولے نا سماتے تھے بلکہ اس کی روشنی دکھا دکھا کر کہتے کہ دیکھو پڑوس کے گھروں‌تک جاتی ہے۔

کئی سالوں بعد اچانک سر راہ ان سے ملاقات ہوگئی؛ بڑے برے حال میں‌تھے؛ کہنے لگے یار امریکہ، سعودی عرب اور بھارت کی وجہ سے میرے گھر میں‌ آگ لگ گئی؛ ساتھ ساتھ ایک پڑوسی کا گھر بھی گیا وہ بھی جان پر عذاب بنا ہوا ہے۔
میں نے حیرانگی کے عالم میں‌پوچھا اتنے سارے ملکوں کو آپ کے گھر سے کیا دشمنی ہوگئی۔۔۔
کہنے لگے یار تجھے وہ گھر کا چراغ یاد ہے؟ میں‌نے کہا ہاں۔۔۔
‌ وہ میں‌ امریکہ سے لایا تھا، اس میں پیٹرول سعودی عرب والا ڈالا تھا اور یار جو دیا سلائی شعلہ دکھانے کے لیے استعمال کرتا تھا وہ بھارت کی بنی ہوئی تھی۔۔۔
میں‌نے پوچھا تو پھر؟
کہنے لگے۔۔ یار ایک دن پڑوسیوں‌ کے گھر کی دیوار پر چراغ کی تیز روشنی میں‌ سائے کی چمگادڑیں بنا رہا تھا کہ چراغ ہاتھ سے چھوٹ گیا اور پورا گھر جلادیا۔۔
ہم نے اپنے طور پر انہیں سمجھایا کہ جب چراغ آپ کے گھر ہو اور آپ اسے استعمال کرتے ہوں اور خود اپنی مرضی سے پیٹرول لا کر ڈالتے ہوں تو پھر آپ کچھ بھی کہیں؛ حادثے کی ذمہ داری آپ کی اپنی ہے۔

ہماری بات تو انہوں نے کیا ماننی تھی الٹا ہمیں غیر کا ایجنٹ کہہ کر چلتے بنے۔ سنا ہے آج کل حالات کے دباؤ میں ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ اپنے گھر کے چراغ‌ کا قصہ سناتے ہیں اور اس کی حرکتوں پر بین کرتے ہیں۔ آس پاس والے کچھ کھانے کو ڈال دیتے ہیں‌ اور اسی طرح زندگی رواں‌ہے۔

آپ کے تبصرے۔ اب تک کل تعداد ۔ (24)

نعمان

October 16th, 2009 at 9:20 pm    


خوبصورت۔

یار ایک دن پڑوسیوں‌ کے گھر کی دیوار پر چراغ کی تیز روشنی میں‌ سائے کی چمگادڑیں بنا رہا تھا کہ چراغ ہاتھ سے چھوٹ گیا اور پورا گھر جلادیا۔۔

جو چمگادڑیں ہم غیر ملکی سامان کی مدد سے تخلیق کرکے پڑوس کے گھر میں دراندازی کرتے تھے وہی اب ہمیں بری طرح چمٹی ہیں۔

جعفر

October 17th, 2009 at 12:00 am    


آپ کے نقطہ نظر سے تھوڑا سا اختلاف ہے۔۔
لیکن تحریر کی خوبصورتی سے کوئی اختلاف نہیں۔۔۔

محمد وارث

October 17th, 2009 at 1:41 am    


اس ‘اندھیرستان’ جسے کبھی ‘پاکستان’ کہا جاتا تھا کے متعلق بلکہ صاف صاف اور خوبصورت تحریر ہے، لاجواب۔

نازیہ

October 17th, 2009 at 1:42 am    


اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے؟ کچھ اور وجوہات بھی ہیں.
انداز تحریر بہت اچھا ہے.

نبیل

October 17th, 2009 at 1:47 am    


بھئی وہ رولنگ والی سمائیلی کہاں ہے، صرف اسی سے اس پوسٹ پر تبصرے کا حق ادا سکتا ہے۔
ایک مرتبہ پھر ۔۔۔لاجواب۔ :)

محمد احمد

October 17th, 2009 at 1:49 am    


بہت خوب راشد کامران صاحب،

بہت عمدہ تشبیہ ہے یہ ہمارے حالات کی۔

خوش رہیے۔

یاسرعمران مرزا

October 17th, 2009 at 2:28 am    


بالکل غلط نقطہ نظر ہے، میں‌اس سے قطعی اتفاق نہیں‌کرتا۔ محترم ابو شامل کی تازہ ترین تحریر ملاحظہ کیجیے۔

عمر احمد بنگش

October 17th, 2009 at 5:48 am    


بہت خوب،

بلال

October 17th, 2009 at 7:39 am    


اب اس چراغ والے گھر میں صرف و صرف اندھیر ہے۔۔۔

تحریر بہت ہی عمدہ

میرا پاکستان

October 17th, 2009 at 10:59 am    


تھوڑے وقفے سے لکھتے ہیں مگر وقفے کا حق ادا کر دیتے ہیں۔

arifkarim

October 17th, 2009 at 12:54 pm    


خوبصورت۔ ایک لمبے عرصہ بات کوالٹی والی تحریر پڑھنے کو ملی ہے!

شاہدہ اکرم

October 17th, 2009 at 6:26 pm    


زبردست بہت مزے دار بہترین

محمداسد

October 17th, 2009 at 10:42 pm    


بہت عمدہ تحریر۔
صحیح معنی میں دریا کو کوزے میں بند کردیا۔

راشد کامران

October 18th, 2009 at 2:44 pm    


آپ تمام قارئین کے تبصروں پر انتہائی مشکور ہوں۔۔ آپ کے وقت نکال کر تبصرہ کرنے سے مستقل بہتری کا موقع ملتا ہے۔

ابوشامل

October 19th, 2009 at 5:54 am    


ہمارے بہت سارے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے افغانستان میں بے وجہ کی مداخلت کی اور روس کو شکست دینے کے لیے ہمیں افغان سرزمین پر امریکہ کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے تھی۔ ان افراد کا استدلال اس حد تک تو درست ہے کہ بہادری کا تقاضا ہے کہ دوسروں کا سہارا نہ لیا جائے لیکن میرے خیال میں روس کی اس حکمت عملی اور توسیع پسندانہ عزائم کو میرے مہربان دوست بھول جاتے ہیں جو اس نے افغانستان پر قبضہ مکمل ہونے کے بعد کے لیے اپنائی تھی۔
بہرحال افغانستان میں جنگ لڑنے کا ہمیں نقصان اس لیے زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ اس کا فائدہ ہم درست انداز میں سمیٹ نہیں سکے۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ اہم جنگ لڑنے والے افراد مخلص نہ تھے۔ امریکہ بھی ملبہ چھوڑ کر بھاگ گیا اور ہمارے ہاں کے ڈالرز کے لالچی بھی افغانستان کو ویسا ہی چھوڑ کر اپنی اپنی دنیا میں جا بسے۔ اور وہ جنگ جو خطے کا رخ متعین کر سکتی تھی ایک ایسا بھیانک خواب بن گئی ہے.
میرے خیال میں ہمیں اس حکمت عملی اور مفاد پرستانہ رویے کی ضرور مذمت کرنی چاہیے لیکن افغانستان میں روسی مداخلت اور اس کے مستقبل کے توسیع پسندانہ عزائم کو نہیں بھولنا چاہیے اور اس بات کو بھی نہیں کہ افغان سرزمین پر پاکستان کا جنگ لڑنا ضروری تھا۔ اگر امریکہ ہمارا ساتھ نہ بھی دیتا تو پاکستان کو اپنی بقا کے لیے یہ جنگ لڑنا ضروری تھی۔
نقطہ نظر سے اس بنیادی اختلاف کے باوجود تحریر آپ کا روایتی شاندار انداز چھایا ہوا ہے۔

راشد کامران

October 19th, 2009 at 11:50 am    


ابوشامل صاحب تحریر کی تیکنیک کی پسند کا شکریہ (:۔۔
بنیادی طور مقصد ہی ان غلطیوں کی طرف نشاندہی کرنا ہے جو افغان جنگ کے فورا بعد کی گئیں افغان جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ تھی؟ اس سے روس کا ماضی دیکھتے ہوئے انکار ممکن نہیں۔ لیکن روس کی شکست کے بعد افغانستان کی خانہ جنگی میں بری طرح ملوث ہونا یہاں تک کہ ریاست تو چھوڑ سیاسی جماعتوں کی سطح تک ہماری فیورٹ جنگجو ٹیمیں بن گئیں۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک نے جو رویہ اپنایا اس کی قیمت آج دونوں ملک ادا کررہے ہیں۔ اس کے برعکس براہ راست ملوث ہونے کے بجائے چند دوسرے ممالک نے جو حکمت عملی اپنائی اس کی وجہ سے کم از کم وہ براہ راست نقصان سے محفوظ ہیں اور آج ہم مانیں یا نا مانیں افغان عوام انہیں ہی اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ اس پر ستم دیکھیے کہ ابھی سوویت یونین کے انخلاء کے بعد معاملات تتر بتر ہیں‌ اور ہماری دیواریں “روس نے بازی ہاری ہے اب امریکہ کی باری ہے” جیسے نعروں سے رنگ دی گئیں۔ اور جہاد یا جنگ کا دائرہ سمیٹنے اور جنگجووں کو معمولات پر واپس بحال کرنے کے بجائے پھیلانے کی باتیں کی جانے لگیں یہاں تک کے عوام کو عظیم “اسلامی سلطنت”‌ کا خواب دکھایا گیا اور ان دنوں ہمارے مذہبی، فوجی اور سیاسی رہنماؤں کی اڑان دیکھیے کہ کوئی دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لگانے کی باتیں‌کررہا تھا اور کوئی وسط ایشیاء تک پھیلی اسلامی سلطنت کے نقشے ترتیب دینے میں لگا ہوا تھا۔۔ اور یہ اُس قوم کی باتیں تھیں جس کی ستر فیصد عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔۔ اس جنون کے نتائج کیا کچھ اور ممکن تھے؟

ظفر عباس

October 19th, 2009 at 2:19 pm    


I don’t Know that your this e-mail address is correct or not but i try this. I am visiting Urdutech since one week and i like it. but i can not shere my feelings on this page due to new user. i get your e-mail from your blogs and then send you my felling about the Indian films that are frequently played on cable in Karachi, The cable Operators are “BAY HES”, because in this situation they commonly played those Indian movies in which they strongly shown the Muslims as a Terrorist (Dhashat Gard). I thinks that they are Muslims but they can not feels the Love of nation and they are not a pure Muslim (means they did not know the resposblity of a Muslim to there faith). Aghar Urdu may likhnay ka Tarika aata tu Dil ki baat aasani say kah pata. Please upnay Urdutech may maray in jazbat ko apni zaban man es tarha likhaen kah un ko sharm aay ur wo sachchay Pakistani ban jayan. I am waiting your reply, I read all about you in your blog. THANKS

راشد کامران

October 19th, 2009 at 3:58 pm    


ظفر صاحب آپ کی آمد کا شکریہ۔۔
فلموں؛ خاص کر بھارتی فلموں میں پروپیگنڈے کا جو عنصر موجود ہوتا ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔۔ یہ تو عام آدمی کے سوچنے کی اور فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ وہ کیا دیکھنا چاہتا ہے اور کیا نہیں۔ اہل محلہ کو اگر فلم پر اعتراض ہے تو وہ کیبل آپریٹر کو اپنی تشویش سے آگاہ کریں تاکہ ایسی فلمیں کیبل پر نا چلائی جائیں۔۔ دیکھنے والے ہوں گے تو پھر کیبل والے نے تو ان کی ڈیمانڈ پوری ہی کرنی ہے۔

ابوشامل

October 20th, 2009 at 4:08 am    


ویسے یہ ‘اطمینان’ مجھے سمجھ نہیں آیا راشد بھائی۔ روس کا ماضی یہ تھا کہ وہ جہاں گیا واپس نہیں لوٹا اور کبھی بھی وہاں نہیں رکا بلکہ مزید آگے بڑھا۔ افغانستان میں روس کو جن لوگوں نے مدعو کیا، ان کا اثر و رسوخ پاکستان میں افغانستان سے بھی زیادہ تھا۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ جب سوویت اتحاد افغانستان میں داخل ہوا تھا تو یہاں ہمارے ہاں کے ‘سرخ’ حلقے یہ کہتے تھے کہ “انقلاب درۂ خیبر پر دستک دے رہا ہے”۔ اس صورتحال میں پاکستان کی پوزیشن افغانستان سے بھی زیادہ نازک تھی۔ افغانستان پر قبضے کے بعد کچھ بعید نہ تھا کہ یہ حلقے وہی حرکت کرتے جو روسی قبضے سے قبل آخری افغان حکومت نے کی کہ انہوں نے دوستی کے معاہدے کے تحت روسی افواج کو افغانستان میں طلب کیا۔ سرحد میں اے این پی کا کتنا زور تھا اور سندھ میں جیے سندھ والوں کی نظر میں روس کی کیا اہمیت تھی؟ اس سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔
جنگ افغانستان کے حوالے سے تین فریقین غلطیوں کے مرتکب ہوئے۔ امریکہ، پاکستانی حکومت اور مذہبی جماعتیں۔ سب سے پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ امریکہ نے افغانستان میں ویت نام کی شکست کا بدلہ تو لے لیا لیکن جنگ کے بعد ملبہ اٹھانے سے انکاری ہو گیا بلکہ وہ سارا ملبہ پاکستان کے اوپر ڈال دیا گیا جسے پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ دوسری غلطی یہاں کی جہادی قوتوں سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افغانستان میں لڑنے والے جنگجوؤں کو ایک مرتبہ پھر زندگی کے عام دھارے میں شامل کرنے کے لیے کچھ نہ کیا۔ نتیجتاً ایک مرتبہ اسلحے کے ساتھ زندگی گزارنے کا مزہ چکھ لینے والے افراد کے لیے یہی ایک راہ بچی کہ وہ دوبارہ اسلحہ اٹھالیں۔ تعلیم کی کمی اور قیادت کے فقدان نے اس جلتی پر تیل چھڑکا۔ رہی سہی کسر لائن آف کنٹرول کے ساتھ باڑھ کی اجازت نے پوری کر دی یوں ان عناصر کو اپنی بھڑاس نکالنے کو کوئی میدان نہ ملا۔ سوچنے میں تو یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ آپ ایک طبقے کو مستقلاً جنگوں میں جتا دیں لیکن تاریخ میں کئی حکومتیں ایسی تھیں جنہوں نے جنگجوؤں اور وحشی قبائل کو ہمیشہ جنگوں میں ملوث رکھا بلکہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی ‘اسلامی’ فتوحات محض اپنی حکومتوں کو بچانے کے لیے مرتب کی گئی حکمت عملی کے تحت ہوئیں، تاکہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی ممکنہ باغی عناصر کو کہیں اور لڑائیوں میں لگا دیا جائے۔ بعد میں ایسا ترک اور ترکمان قبیلوں کے ساتھ بھی کیا گیا کہ انہیں مستقل جنگوں میں مصروف رکھا جاتا۔ اس طرح تعلیم و تربیت نہ کرنے اور عام زندگی کی دوڑ میں دوبارہ شامل نہ کرنے کے بعد یہ ممکنہ دوسرا آپشن بھی ہم نے ضایع کیا۔
تیسری غلطی، جو کہیں زیادہ بھیانک تھی، وہ مذہبی جماعتوں سے ہوئی، روسی شکست کے بعد ہماری ہاں کی مذہبی قوتیں اس زعم میں مبتلا ہوئیں کہ وہ اب دنیا کی ہر قوت کو پاش پاش کر سکتی ہیں اور دماغ کے اسی خناس نے القاعدہ، الفائدہ وغیرہ کو جنم دیا۔ لال قلعے پر سبز علم لہرانے جیسی بچکانہ باتیں اس بات کا مظہر تھیں کہ مذہبی جماعتیں کتنی visionary ہیں اور ان کی mental approach کیا ہے؟ اور مجھے پورا اندازہ ہے کہ اب جبکہ بہت زیادہ پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے، اس کے باوجود حالات کا درست ادراک کوئی مذہبی جماعت نہیں کر رہی۔ افسوس اس بات کا زیادہ ہے کہ یہ اپنے ہی اکابرین کے افکار کے خلاف جا رہے ہیں۔ مجھے الفائدہ مذہبی جماعتوں کا تو کوئی افسوس نہیں کہ ان کا وژن ہمیشہ ایک جیسا ہی رہا ہے لیکن معتدل مزاج مذہبی قوت کو حالات کا ادراک کرنا چاہیے اور موجودہ صورتحال میں اپنی پالیسی ایک دم واضح اپنانی چاہیے کہ وہ شدت پسند قوتوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔
آج میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح پاکستان کا افغانستان میں جنگ کرنا اس کے بقا کی ضمانت اور مجبوری تھی، آج بہت افسوس کے ساتھ کہ وزیرستان وغیرہ میں جنگ کرنا بھی اس کی مجبوری اور بقا کی ضمانت ہے۔

راشد کامران

October 20th, 2009 at 11:18 am    


ابوشامل صاحب اطمینان سے میری مراد یہی تھی کہ “روس كے ماضی دیکھتے ہوئے اس جنگ کے پاکستان کے دفاع کی جنگ ہونے پر اطمینان رکھا جاسکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں اس مقدمہ سے انکار ممکن نہیں”۔ اور جنگ کے بعد کی صورت حال میں‌ شاید ہم ایک ہی بات پر متفق ہیں۔

میں‌نے اپنے تبصرے میں ردو بدل کردیا ہے تاکہ کوئی دسرا قاری مخمصہ کا شکار نا ہو۔

منیر عباسی

November 6th, 2009 at 10:51 pm    


محترم ابو شامل نے اپنے آخری تبصرے میں کافی کچھ ایسا کہہ ڈالا ہے جس سے میں بھی متفق ہوں۔ گویا اب میں اکیلا نہیں رہا ۔
(:

محد یاسین

January 23rd, 2010 at 12:22 pm    


سلام
ماشاللہ
زبردست لکھا ھے۔ آپ اردو میں کیسے کود کرتے ھیں؟

راشد کامران

January 23rd, 2010 at 4:03 pm    


محمد یاسین صاحب۔۔ شکریہ۔۔
اردو میں کیسے کود کرتے ہیں سے میں یہ سمجھا ہوں کہ آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اردو میں کیسے بلاگنگ کرتے ہیں تو اس کے لیے کئی ذرائع دستیاب ہیں۔۔ آپ اس پوسٹ پر اردو بلاگنگ سے متعلق تمام معلومات حاصل کرسکتے ہیں جہاں میں‌نے کئی لنکس یکجا کردیے ہیں

http://www.urdublogging.com/?p=410

عرفی دُرانی

February 20th, 2010 at 12:11 pm    


ابو شامل صاحب، كیا آپكا مطلب یہ ہے كہ جنگجوؤں كو ” لا ك ” (LOC) كے پار بھیجھتے رہنا اچھی حكمتِ عملی ہوتی؟
راشد صاحب تو شائد اس سے متفق نہ ہوں تاہم میری رائے میں مجاہدین كی عسكری تربیّّت كے ساتھ نظم و ضبط ، تعلیم اور كردار كی تعمیر بہت ضروری ہے تا كہ انہیں بوقتِ ضرورت نہ تو دارلسلام (Civil Society) میں رہنے اور ڈھلنے (integerate) میں كوئی دقّت ہو اور نہ ہی حسبِ ضرورت دوبارہ جہاد كرنے میں كوئی ھچكچاہٹ ۔ ہر صورت میں وہ ریاست كے كنٹرول میں رہنے چاہئیں نا كہ اگر ریاست بدلے ہوئے حالات میں میں اپنی حكمتِ عملی تبدیل كرنا چاہے تو وہ خود كار (Automatic) اور بے نظم جنگجو بن جائیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ باقائدہ فوج كی طرح یا صرف فوجی ہی ہوں۔

اس بارے میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں

Name *

Mail *

Website