ممبئی دہشت گردی کی بدلتی صورت حال

ممبئی دہشت گردی کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں روزانہ کی بنیاد پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس میں جہاں پاکستان کے حکومتی عمائدین کی نا اہلی کا بڑا ہاتھ ہے وہاں دونوں ملکوں کے میڈیا کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو بجائے حقیقی خبر کی تلاش کے ایک دوسرے کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ میں مصروف ہیں اور دونوں اطراف کے عقابی سیاستدانوں کا کردار بھی سب کے سامنے ہے جو دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھا کر خطے کو مزید غیر مستحکم کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔

ممبئی حملوں پر دنیا پر میں چار مختلف موقف پائے جاتے ہیں۔ پہلا اور سب سے کمزور مؤقف حکومت پاکستان کا ہے جس کے مطابق ممبئی دھماکوں‌ میں پاکستان ملوث نہیں لیکن صدر پاکستان کے بیان کے مطابق غیر ریاستی عناصر کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور ساتھ ہی ساتھ لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیم جماعت الدعوۃ (جو کئی لوگوں‌کے مطابق لشکر طیبہ سے متعلقہ نہیں‌ہے ) کے خلاف آپریشن بھی شروع کر رکھا ہے جس سے پاکستانی مؤقف عملاَ بے اثر ہو کر رہ گیا ہے۔

دوسرا مؤقف بھارتی حکومت کا ہے جس کے مطابق نہ صرف یہ کہ تمام کے تمام دہشت گردوں‌کا تعلق پاکستان سے ہے بلکہ ان دہشت گردوں کے ڈورے بھی پاکستان سے ہلائے جارہے تھے جو دراصل کافی واضح الفاظ میں پاکستانی کی سب سے مضبوط ایجنسی آئی ایس آئی کی طرف اشارہ ہے۔

تیسرا مؤقف امریکی مؤقف ہے جو اس قضیے کی بنیاد پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات سے اپنی اٍفغانستان میں‌موجود فوج کو بچانا چاہتا ہے اور نہ پاکستان کو مکمل ناراض کرنے کی پوزیشن میں ہے اور نہ ہی بھارت کے خلاف جا سکتا ہے چناچہ امریکی وزیر خارجہ کے آفیشل بیانات بھی صدر زرادری سے ملتے جلتے ہیں لیکن بہر صورت پاکستان پر دباؤ بڑھاؤ پالیسی کا تسسل ہی ہیں۔

چوتھا مؤقف باقی تمام ممالک کا ہے جن کے نزدیک بھارتی موقف ہی درست مؤقف ہے اور پاکستان سے فی الفور کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جو دراصل بدترین معاشی صورت حال میں بھارت کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی ہے اور دنیا بھر میں ہماری ناکام سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت۔

اب تازہ ترین صورتحال میں دو واقعات رونما ہوئے ہیں‌ ان میں سے ایک بھارتی طیاروں کا پاکستانی حدود کی خلاف ورزی ہے جو ابھی تک نا معلوم کیوں صرف پاکستانی اخبارات کی زینت بنا ہوا ہے اور دوسری طرف اجمل قصاب کی جانب سے اقبال جرم اور پاکستانی قونصل خانے سے قانونی مدد طلب کیے جانا ہے جس کو تمام بین الاقوامی میڈیا نے شہ سرخیوں میں شائع کیا ہے اور امید یہی ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ثبوت ثبوت کے جواب میں اجمل قصاب کا اقبال جرم اور پاکستانی قونصل خانے سے طلب کی جانے والی امداد کو اسکی پاکستانی شہریت کے ثبوت کے طور پر پیش کرے گی۔ دوسری طرف ڈان اخبار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فرید کوٹ میں اجمل کے والدین نے اجمل قصاب کو پہچان لیا ہے۔

اس تناظر میں جنگ ہونے کے خطرات تو فی الحال نہیں ہیں کیونکہ پاک بھارت جنگ خطے میں امریکی مفادات پر ایک کاری ضرب ہوگی اور افغانستان میں اسکی فوج کے لیے انتہائی خطرناک بات کیونکہ افغانستان تک رسائ کے دونوں راستے پاکستان سے گزر کر جاتے ہیں اور امریکہ کسی صورت پاکستانی فوج کی مغربی سرحدوں‌سے مشرقی سرحدوں پر منتقلی نہیں چاہتا۔ لیکن بھارت کی معاشی طاقت اور دنیا بھر میں اسکی کامیاب سفارتکاری نے پاکستان پر اس قدر دباؤ بڑھا رکھا ہے کہ دانستہ یا نادانستہ طور پر بہت اوپری سطح کے پاکستانی سفارتکار بھی کم و بیش بھارتی موقف دہراتے نظر آتے ہیں اور سلامتی کونسل کے حالیہ فیصلوں کے بعد لشکر طیبہ کے خلاف کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہوگیا تھا۔

پاکستانی میڈیا ہمیشہ کی طرح خبریں نشر کرنے کے بجائے ایجاد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور بظاہر اسکی آواز پاکستان سے باہر نہیں پہنچ رہی بلکہ لشکر طیبہ کے خلاف آپریشن کے بعد تو ملک میں بھی میڈیا کے پیش کردہ موقف پر سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں اور اس بات کی ضرورت ہے کہ میڈیا اپنی فتح کے گن گانے کے بجائے حالات کی درست تصویر کشی کرے تاکہ پاکستانی قوم بے خبری میں ہی مار نہ کھا جائے۔ 

آپ کے تبصرے۔ اب تک کل تعداد ۔ (2)

عبدالقدوس

December 15th, 2008 at 6:31 am    


یار اب کے جنگ ہوجاتی تو کیا ہی برا تھا :(

راشد کامران

December 15th, 2008 at 1:06 pm    


صاحب‌ ہم تو سمجھتے ہیں کہ آدمی کی جنگ سے پناہ مانگنی چاہیے اور اللہ سے دعا ہے کہ اس خطے کہ لیڈروں کو اتنی سمجھ دے کہ یہاں کہ امن تہہ و بالا نہ کریں۔

اس بارے میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں

Name *

Mail *

Website