کسطرح آئے گی جس روز قضا آئے گی ؟
کچھ دن پہلے منیر عباسی صاحب نے یہ سوال فیس بک پر لکھا پھر اپنے بلاگ پر بھی پوسٹ کیا جب سے اب تک ذہن سے چپکا ہوا ہے۔۔ یہ ایک اور انداز سے قضا کی آمد دیکھی گئی ہے۔
کسطرح آئے گی جس روز قضا آئے گی ؟
کیا خبر شور مچاتی ہوئی لہروں پہ سوار
کیا خبر خامشی بن کر کسی ویرانے کی
کیا خبر مجھ سے میرے گھر کا پتہ بھی پوچھے
کیا خبر اتنی اچانک کہ خبر تک نا کرے
عین ممکن ہے کہ آوارہ بگولے کی طرح
یوں اچانک چلی آئے کہ نظر تک نہ پڑے
عین ممکن کسی بچھڑے ہوئے ساتھی کی طرح
راہ میں چلتے ہوئے روک کے حیراں کردے
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہنگامے بلا ہو جیسے
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجھ کو پتا ہو جیسے
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر شخص قضا ہو جیسے
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اپنی قضا ہو جیسے

آپ کے تبصرے۔ اب تک کل تعداد ۔ (10)
میرا پاکستان
February 16th, 2010 at 10:04 pm
بہت خوب جناب۔ نثر کے بعد شاعری میں بھی کمال کر دیا۔ خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔
منیر عباسی
February 16th, 2010 at 10:41 pm
بہت اچھے !!
مجھے تو اب بھی اس سوال کا جواب نہیںمِل سکا کہ فیض صاحب نے آخر یہ اشعار کہے کیوں!!
جعفر
February 16th, 2010 at 11:45 pm
واہ صاحب، بہت عمدہ۔۔
محمد ریاض شاہد
February 17th, 2010 at 12:32 am
فیض کس پس منظر اور ذہنی کیفیت میں یہ کہ رہے اگر واضح ہو جائے تو شاید مطالب واضح ہو جائیں ورنہ ابھی تک تو تجریدی ہے۔
عدنان مسعود
February 17th, 2010 at 1:54 am
بہت عمدہ سرقہ۔ میرا مطلب کاوش ہے ۔
عمر احمد بنگش
February 17th, 2010 at 10:16 am
نہایت عمدہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بندے کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
فیصل پاروانی
February 17th, 2010 at 1:12 pm
بہت عمدہ
عنیقہ ناز
February 18th, 2010 at 10:55 am
بہت اچھا، اچھی طرح زمین استعمال کی ہے۔
راشد کامران
February 18th, 2010 at 12:32 pm
آپ تمام لوگوں کا شکریہ۔۔ بخدا شاعری نا کبھی ہوئی ہے اور نا کبھی کرنے کا ارادہ ہے یہ تو محض خیالات تھے جو “آزادانہ نظم” کی صورت پیش کردیے۔
عدنان بھائی سرقہ کبھی اتنا بے وزن دیکھا ہے کیا
عبداللہ
March 4th, 2010 at 6:31 pm
http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5319745,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf
اس بارے میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں