مُلا نکولا سرکوزی

افق کے داہنے جانب کی انتہا پسندی پر تو ایک عالم میں شور برپا ہے لیکن بائیں بازو کی انتہا پسندی بھی اب پوری طرح‌ کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ اگلے دنوں فرانس کے رہنما نے برقعے کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا اور ان کے نزدیک برقع مذہبی علامت نہیں بلکہ ماتحتی یا پسماندگی کا نشان ہے اور اس سے عورت کی تکریم نہیں بلکہ تذلیل مقصود ہے۔ فرانس کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات کا عندیہ دیا کے فرانس میں برقعے کو خوش آمدید نہیں کہا جائے گا اور اس طرح کے اشارے بھی دیے جارہے ہیں کہ برقعے یا دوسرے لفظوں میں حجاب کے استعمال کے خلاف قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے۔ اسی دوران جرمن شہری کی طرف سے حجاب استعمال کرنے پر ایک خاتون کو نفرت کا نشانہ بنانے اور بھری عدالت میں قتل کرنے کا واقعہ بھی خبروں میں نمایاں رہا ہے۔ فرانس میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور جسطرح‌ تعلیمی ادراوں کے باہر کھڑے منتظم زبردستی طالبات کے اسکارف اتارتے نظر آئے وہ نظارے بھی سرعام کوڑے برساتے طالبان سے کسی طور مختلف نہیں۔

دونوں طرف کی شدت پسندی کا تقابل کرنے اور ان میں‌یکسانیت تلاش کرنے کے لیے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ انتہا پسندی کو دائیں اور بائیں میں تقسیم کرنے کا سلسہ بھی ختم کیا جانا چاہیے کہ سولہویں صدی کی سوچ رکھنے والے انتہا پسند طالبان ہوں یا جدید تراش خراش کے سوٹ زیب تن کیے فرانسیسی خوشبوؤں میں رچے بسے اکیسویں صدی کے طالبان دونوں ہی اعتدال اور انسانی آزادی کے لیے یکساں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ان انتہا پسندوں کے دماغ میں یہ بات نا معلوم کیوں نہیں‌سماتی کے برقع، حجاب، داڑھی محض ایک اختیاری چیز ہے اور اس کا اختیار انسان کو دے دینا ہی اصل روشن خیالی ہے۔ عورت کو خود فیصلہ کرلینے دو کہ اسے شٹل کاک برقعہ پہننا ہے، اسکارف سے حجاب لینا ہے، صرف دوپٹے سے کام چلانا ہے یا محض سادہ لباس زیب تن کرنا ہے۔ مردوں کو خود فیصلہ کرنے دو کہ انہیں داڑھی ایک مشت رکھنی ہے، ہلکی رکھنی ہے یا بالکل کلین شیو رہنا ہے۔

ایک طرف ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوؤں کے ظاہر ہونے پر کوڑے کڑکڑاتے طالبان سوار ہیں تو دوسری طرف محض اپنے بالوں کو حجاب میں لینے والے والی خواتین کے سر پر قانون کی تلوار لیے لباس نوچ لینے کو بے قرار طالبان اور دونوں‌ کو اس بات سے کوئی غرض ہی نہیں‌ کہ حوا کی بیٹی اختیار کی آزادی چاہتی ہے لباس کی نہیں۔ اسے قبولیت کی تکریم درکار ہے پانٹ سوٹ پہنے کی آزادی نہیں۔ جمہوریت کی آڑ‌ میں انسانی آزادی کے دشمن نکولا سرکوزی اور اسلام کا لبادہ اوڑھے  بن لادن کی سوچ میں دیکھا جائے تو کوئی خاص فرق نہیں دونوں ہی دستیاب طاقت کے بل پر انسانی آزادی چھین لینے کے درپے ہیں۔

آپ کے تبصرے۔ اب تک کل تعداد ۔ (30)

کنفیوز کامی

July 13th, 2009 at 2:17 pm    


میرے بھائی ان مما لک میں رھنا بہت مشکل ہو گیا ہے یہ چاہتے ہیں اگر یہاں رھنا ہے تو ہم جیسے بن کر رہو ۔

DuFFeR - ڈفر

July 13th, 2009 at 3:35 pm    


سر جی آزادی ان کو ملتی ہے جو آزادی چاہتے اور آزادی مانگتے ہیں، نا ملے تو چھین لیتے ہیں
ہم آزادی چاہتے ہیں مانگتے نہیں اور چھین سکتے نہیں
ہم میں اتنی جرات قابلیت اور اوقات نہیں کہ اپنی ہی چیز کی حفاظت کر سکیں تو سرکوزی سے کیا گلہ؟
اگر آج ہم اپنی اصلیت جانتے اور اس اپنا وقار قائم رکھتے تو کیا جرات تھی سرکوزی اور اوبامے کی مسلمانوں کے متعلق ایک لفظ بھی منہ سے نکالنے کی؟
اور یہ دائیں اور بائیں بازو والی ٹرمیں مجھے ہمیشہ کنفیوز کر دیتی ہیں کیا آپ مجھے ان کی تھوڑی بہت تفصیل بتائیں گے تاکہ میں بھی کبھی کسی بحث میں حصہ دار بن سکوں؟

میرا پاکستان

July 13th, 2009 at 5:45 pm    


آپ نے بالکل بجا فرمایا مگر کیا کیا جائے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر آج کل لبرل فاشسٹ‌چل رہےہیں۔ کل انہیں‌طالبان کی دوبارہ ضرورت پڑی تو وہ پھر جہادی بن جائیں گے۔
حامد میر نے بھی آج اسی موضوع پر کالم لکھا ہے۔
http://www.jang.com.pk/jang/jul2009-daily/13-07-2009/col5.htm

Meer

July 13th, 2009 at 8:10 pm    


سارکوزی نے تو خير ہلکی سی بات ہی کی ہے ليکن پاکستانی تو پتھروں کے دور کي عملي تصوير بنے ہوئے ہيں- کسی نے slavery (غلامي) کو قانونی طور سے جائز ديکھنا ہو تو پاکستان ميں ديکھے-

ORDINANCE NO. XX OF 1984 PART II – AMENDMENT OF THE PAKISTAN PENAL CODE (ACT XLV OF 1860) (3) 298C… Any person of the Quadiani group or the Lahori group (who call themselves ‘Ahmadis’ or by any other name), who … invites others to accept his faith, by words, either spoken or written, or by visible representations, or in any manner whatsoever outrages the religious feelings of Muslims, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years and shall also be liable to fine end

افتخار اجمل بھوپال

July 13th, 2009 at 11:09 pm    


اول بات تو یہ ہے کہ دنیا میں باعمل مسلمان بہت کم رہ گئے ہیں باقی مادہ پرست بن چکے ہیں ۔ منافقت بھی در آئی ہے جس کی وجہ سے اصل اور نقل کی پہچان بہت مشکل ہو چکی ہے ۔
فرنگی کا رویہ دین کی طرف ہمیشہ ہی معاندانہ رہا ۔ نبیوں کے قاتل بنی اسرآءيل ۔ انسانوں کا ناطقہ بند کرنے والے بنی اسرآءيل۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بلکہ اصلی مسلمان کہتے ہیں لیکن ہیں صیہونیوں کے پروردہ منافق ۔ ان میں سے ایک نے میر کے نام سے یہاں بھی ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا ہے ۔ کچھ دن قبل یہی کچھ کسی اور نام سے ایک اور بلاگ پر بھی لکھا تھا ۔ ان لوگوں نے پاکستان بننے سے قبل ہی پاکستان کے خلاف کام شروع کر دیا تھا ۔ کمال یہ ہے کہ اوپر نقل کیا گیا قانون ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا ۔ جب 1970ء میں انتخابات ہونے والے تھے تو ان کے سربراہ نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا تھا کہ سب ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ مضبوط کریں ۔ یہ حکمنامہ الفضل اخبار میں چھپا تھا

ابوشامل

July 13th, 2009 at 11:12 pm    


راشد صاحب! بہت فکر انگیز تحریر ہے۔ اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ انتہا پسندی ہی ہے چاہے وہ انتہائی دائیں جانب کی ہو یا بائیں جانب کی۔ زمانہ کیونکہ پروپیگنڈے کا ہے اس لیے “اسلامی شدت پسندی” اور “اسلامی دہشت گردی” کی ناقص اصطلاحات بھی خوب زور پکڑتی ہیں، اس لیے میرے خیال میں پروپیگنڈے کا توڑ کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن افسوس کہ اس وقت عالم اسلام کا کوئی ایک ترجمان چینل، ویب سائٹ یا کوئی اور ابلاغی ذریعہ نہیں۔

جعفر

July 13th, 2009 at 11:26 pm    


اپنے اپنے بتوں کو پوجتے ہیں جی سب۔۔۔
کوئی اسلامی نظام کے بت کو
اور کوئی آزادی رائے اور آزادی فکر کے بت کو

یاسر عمران مرزا

July 14th, 2009 at 4:10 am    


اچھی تحریر ہے، مگر آجکل صرف اسکی بات سنی جا سکتی ہے جس کے پاس طاقتور میڈیا ہے، میڈیا کی طاقت کے ذریعے صیحح کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے اور غلط کو صیحح
اور مسلمان اپنے مسائل کے ذمہ دار خود ہیں،

ابوشامل

July 14th, 2009 at 5:45 am    


جعفر صاحب! مسئلہ اپنے اپنے بتوں کو پوجنے کا نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ آزادی کے علمبردار ہیں تو آزادی سے کسی بھی شخص کو کچھ بھی اختیار کرنے کا حق دیں۔

نعمان

July 14th, 2009 at 7:56 am    


اخباری اطلاعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یورپی سیاستدانوں میں مسلم روایات کی تضحیک اور مسلمانوں کی شخصی آزادیوں کو محدود کرنے کے مباحثے مقبولیت بڑھانے کے آسان ہتھکنڈے بن گئے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے غالب تہذیبیں ہمیشہ کمزور ثقافتوں اور تہذیبوں کو مٹانے کی کوشش کرتی آئی ہیں اور اپنی تہذیب و ثقافت مغلوب اکثریت پر تھوپنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یورپ میں جاری یہ حرکتیں بھی کچھ ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں۔ بلکہ یورپ کی تاریخ ایسی حرکتوں سے بھری پڑی ہے جہاں انہوں نے اپنے معاشرے سے مسلم تہذیب و ثقافت کے اثرات مٹانے کی کوشش کی ہے۔

بیگ صاب

July 14th, 2009 at 11:07 am    


السلام علیکم،
ویسے تو یہاں تقریباً سارے ہی enlightened moderate بیٹھے ہیں، لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اختیاری کیا چیز ہے؟
اختیاری یہ ہے کہ آپ کے خیال سے مذہب ضروری ہے کہ نہیں، نہیں ہے تو کوئی مذہب اختیار نہ کریں۔ پھر یہ کہ کون سا مذہب؟ اسلام، عیسائیت، بدھ ازم؟ جو سمجھ آرہا ہے وہ اختیار کر لیں۔ اب میرے خیال سے دیانت کا تقاضہ یہ ہے کہ جو مذہب اختیار کیا ہے اس پر پوری طرح عمل کیا جائے نہ کہ یہ کہ جی میں نے قبول تو کر لیا ہے مذہب لیکن یہ یہ چیزیں میں نہیں کروں گا۔
اور قرآن کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ اسلام کے علاوہ کوئی مذہب قابل قبول ہی نہیں اور اسلام بھی آدھا ادھورا نہیں مکمل اسلام۔
تو پھر مسئلہ یہ ہے کہ ہم مکمل طور پر پھنس چکے ہیں، اسلام کے علاوہ کوئی مذہب آخرت میں قبول ہو گا نہیں اور موجودہ دور میں اسلام پر مکمل عمل کرنا آسان بھی نہیں۔ تو فیصلہ ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ زندگی زیادہ ضروری ہے یا اخروی زندگی؟ اسی ایک چیز پر ہمارے تمام کوششوں کی بنیاد ہو گی۔

اس کے علاوہ ہم کتنی ہی باتیں کر لیں، کتنی ہی لفاظی کر لیں، دماغ کی کتنی ہی ورزشیں کر لیں، اپنے آپ کو کتنا ہی ‘بیچ کا’ ثابت کرنے کی کوشش کر لیں یہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ میں رکھنے کی بات ہے اور کچھ نہیں!

راشد کامران

July 14th, 2009 at 12:40 pm    


کامی بھائی دراصل یہی شدت پسندی کی نشانی ہے کہ ہم ساری دنیا کو اپنے جیسا بنانا چاہیں اور کسی دوسرے کے خیال یا سمجھ کو در خور اعتنا نہ جانیں۔

ڈفر ، یار مسئلہ ہی یہی ہے کہ انتہا پسندوں کی اکثریت اپنے آپ کو انسانیت کا سب سے بڑا ہمدرد گردانتی ہے۔ دائیں اور بائیں میرے حساب سے اضافی اصطلاحات ہیں لیکن عام طور پر قدامت پسند مذہبی طبقے کو دائیں اور لبرل سیکولر طبقات کو بائیں بازو کا سمجھا جاتا ہے لیکن “کسی کا دہشت گرد کسی کا مجاہد” کے فارمولے کے مطابق کسی کا دایاں کسی اور کا بایاں ہوسکتا ہے۔ اصل میں تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ اسکیل پر ہم خود کہاں کھڑے ہیں (:

افضل صاحب بجا فرمایا۔

میر صاحب آپ کے دیے ہوئے ریفرنس میں قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی ہے لیکن عمل کرنے کی نہیں لیکن سرکوزی صاحب‌ تو عمل کرنے پر بھی قدغن لگانے پر تلے ہیں اور آپ کے حساب سے وہ چھوٹی چیز ہے۔ آپ کا مقصد موضوع پر مثبت گفتگو کرنا نہیں بلکہ پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ افتخار اجمل صاحب نے اس کی نشاندہی اپنے تبصرے میں کردی ہے۔

ابوشامل صاحب۔۔ ہم لوگ جب یہودی بیشنگ سے فارغ‌ ہولیں گے تو پھر سوچیں گے میڈیا کی بابت۔ اس دوران پلوں سے کتنا پانی گزر جاتا ہے اس کی فکر بہت قلیل تعداد کو ہے اور ان کو بھی مسلم اکثریت فی الحال استعمار کا ایجنٹ ہی گردانتی ہے۔

جعفر بھائی امید ہے ابوشامل صاحب کے جواب تسلی بخش ہوگا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر اختیار یا چوائس کا حق چھین لیا جائے تو جزا و سزا کے نظام کی بنیاد کیا ہے؟

یاسر صاحب ابوشامل صاحب نے بھی یہی نکتہ اٹھایا ہے اور تقریبا تمام لوگ ہی متفق ہیں‌کہ کاؤنٹر کرنے والی مناسب قوتیں موجود نہیں‌ اس وجہ سے بسا اوقات ہمارا رد عمل بھی پروپیگینڈے کو تقویت دینے کا باعث بن جاتا ہے۔

نعمان آج کی دنیا میں مقبولیت کی سب سے چھوٹا راستہ یہی ہے۔ اور اس پر بھی ایک بحث‌کا آغاز ہوچکا ہے کہ کیا ان تمام باتوں‌کی بنیاد دراصل اسلام کی یورپ میں بڑھتی ہوئی مقبولیت یا مسلمانوں‌کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جس میں صرف تارکین وطن نہیں بلکہ مقامی لوگ بھی شامل ہیں۔ اس خوف کے زیر اثر کچھ شدت پسندوں کا مشغلہ ہے کہ اس تشخص پر ضرب لگائی جائے اور اور ہر اس علامت کو تضحیک کا باعث بنادیا جائے جو کسی صورت بھی دین سے متعلقہ ہے۔ حالانکہ برقع پر پابندی اگر لگائ جائے تو پھر عیسائی راہبہ کے برقع پر بھی لگنی چاہیے اور راہبہ کے لیے کنواری رہنے کی پابندی کی بھی باعث تضحیک اور شدت پسندی سمجھا جانا چاہیے۔

بیگ صاحب‌خوش آمدید۔ ویسے تو ماڈریٹ کا تمغہ چند لوگ ہی سجانا چاہیں‌گے لیکن اگر ایک مسلمان روشن خیال معتدل مزاج نہیں‌ ہے تو اسے اپنے خیالات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ آپ بالکل درست نکتے پر پہنچے ہیں‌کہ مذہب اختیاری چیز ہے اور اختیار کا ہونا دراصل جزا و سزا کے پورے سسٹم کی بنیاد ہے۔ پوسٹ کا موضوع وہ شدت پسندی ہے جو ہم دوسرے کے اختیار کے حق کے خلاف ظاہر کرتے ہیں اور دوسرے کو مجبور کرتے ہیں کہ صرف وہی چیز اختیار کرے جو ہم نے کری ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئے جو چیز ہم نے اپنی مرضی سے چنی ہے دوسرے کے لیے صرف اسے بہتر سمجھیں اور اس کا اختیار کو باطل جانیں اگر وہ ہماری اختیار کی گئی چیز سے میل نہیں‌ کھاتا۔

دوسرا یہ کہ اس زندگی اور اخروی زندگی کا جو فلسفہ ہمارے یہاں رائج ہوگیا ہے وہ بھی ایک عجیب مسئلہ ہے میری سمجھ کے مطابق تو یہ زندگی زیادہ اہم ہے جس کی بنیاد پر اخروی زندگی کا فیصلہ ہونا ہے۔ اختیار اور عمل کی آزادی اور اس کی بنیاد پر جزا و سزا کا فیصلہ اس زندگی کو زیادہ اہم بناتا ہے؛ اور مذاہب کی اطلاق بھی اسی زندگی کے لیے ہے۔ اس زندگی سے بیزاری نا تو دین کی منشا ہے اور نہ رسول اللہ کا طریقہ۔

بیگ صاب

July 14th, 2009 at 4:13 pm    


دیکھئے، دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ مطلب یہاں کچھ بوئیں گے تو وہاں کچھ کاٹیں گے۔ تو اس حساب سے تو دنیا کی زندگی اہم ہے۔ لیکن حدیث نبوی ؐکے مطابق ہی اس دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے کہ ایک شخص سمندر میں انگلی ڈبائے اور دیکھے کہ اسے کتنا پانی لگتا ہے؟ تو مطلب یہ ہوا کہ اگر ان دونوں حیات کا تقابل کریں گے تو دنیا کی زندگی کا معاملہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ جیسے زمین بہت بڑی ہے لیکن سورج کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اب ہمارا رب کا فرمان تو یہ ہے کہ اس اصل اور آخری زندگی میں کامیاب وہی ہے جو اللہ کی مانے اور رسول اللہ ؐ کی جزوی نہیں بلکہ مکمل اطاعت کرے اور ہم اپنی ہی تگڑم لڑاتے رہیں کہ نہیں جی ہمارے تو خیال سے یہ چیز آپشنل ہے، یہ اس وقت کے لئے تھی آج کے لئے نہیں۔ تو ہم در حقیقت کسی اور کا تو کچھ نہیں بگاڑ رہے اپنا ہی بگاڑ رہے ہیں۔
موضوع پر واپس آتے ہیں۔ آپ کی معروضات کے مطابق ہر شخص کو یہ اختیار دے دینا چاہئے کہ وہ کیا چاہتا ہےکیونکہ اس سےشاید انتہا پسندی کے خاتمہ کی کوئی صورت بن جائے، یقین آپ کو بھی نہیں بس ٹرائل اینڈ ایرر کی بنیاد پر یہ کام ہوگا کہ ہو گیا تو ٹھیک، نہیں تو کچھ اور سوچیں گے، نہیں تو کچھ اور پھر کچھ اور۔مغربی معاشرہ بھی آج صدیوں بعد یہاں پہنچا ہے تویہی ٹامک ٹوئیاں مارتے پہنچا ہے۔ اور آگے بھی یہی چلے گا۔
تو میرے بھائی، اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جانتے ہیں کہ انسان کے لئے کیا ممکن ہے کیا نہیں۔ انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ایسے قانون پر خود پہنچ جائے جو سب انسانوں کے لئے قابل قبول ہو۔ مرد قانون بنائے گا تو عورت کو مسئلہ، عورت بنائے تو مرد کو۔ سرمایہ دار قانون بنائےگا تو مزدور کو مسئلہ، مزدور بنائے تو سرمایہ دار کو۔ اور ریاست قانون بنائے تو فرد کو مسئلہ، فرد بنائے تو ریاست کو۔
تو اس صورت حال میں تو شریعت زحمت نہیں نعمت اور رحمت نظر آتی ہے، جیسے کہ سورۃ المائدہ آیت ۳ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
“۔۔۔آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے۔۔۔ ”
ہم پھر بھی بضد ہیں کہ مرد کو یہ اختیار دے دو عورت کو یہ۔ میری عرض یہ ہے کہ ہمارے کرنے کا کام یہ ہے ہی نہیں تو ہم کیوں خوامخوہ ہلکان ہو رہے ہیں؟ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اس لئے کہ ہم اس کاہر حکم بجا لائیں (الذاریات آیت ۵۶) نہ کہ یہ کہ بیٹھ کر سوچنا شروع کر دیں کہ یہ میں مانوں گا یہ نہیں مانوں گا۔ نہ مانو بھائی، یہ اختیار تو ہے لیکن اس کی ضمانت نہیں کہ اس طرز عمل پر بخشش بھی ہو جائے گی۔ اللہ بخش دے تو وہ مالک ہے !! وما علینا الا البلاغ۔

Meer

July 14th, 2009 at 4:51 pm    


“ان میں سے ایک نے میر کے نام سے یہاں بھی ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا ہے ۔”

اگر زہر ہے تو آپ کا اپنا ہی قانون ہے اسے ختم کر ديجيئے-

“اوپر نقل کیا گیا قانون ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا”

“ORDINANCE NO. XX OF 1984 ”

1984 ميں کون سے بھٹو صاحب تھے؟ کہانياں بنانا آپ پہ ختم ہے-

ًMeer

July 14th, 2009 at 4:58 pm    


“جعفر صاحب! مسئلہ اپنے اپنے بتوں کو پوجنے کا نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ آزادی کے علمبردار ہیں تو آزادی سے کسی بھی شخص کو کچھ بھی اختیار کرنے کا حق دیں۔”

اگر آزادی يورپ ميں نہيں ہے تو کيا پاکستان ميں ہے(اوپر کا قانون نوٹ کيجيئے)؟ اگر يورپ مسلک کی بنياد پہ جيل ميں بھی ڈالنا شروع کردے تو يہی کہا جائے گا کہ يورپ اب پاکستان کا ہم پلہ ہو گيا ہے-

ًMeer

July 14th, 2009 at 5:12 pm    


“میر صاحب آپ کے دیے ہوئے ریفرنس میں قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی ہے لیکن عمل کرنے کی نہیں لیکن سرکوزی صاحب‌ تو عمل کرنے پر بھی قدغن لگانے پر تلے ہیں اور آپ کے حساب سے وہ چھوٹی چیز ہے۔”

جناب سارکوزی نے پابندی کی ابھی تو صرف بات ہی کی ہے جبکہ آپ نے پابندی لگائی ہوئی ہے- اور تبليغ پہ پابندی انسانی حقوق کی شديد خلاف ورزی نہيں ہے؟ آپ پہ لگائيں تو آپ آسمان سر پہ اٹھاليں- آپ بيک وقت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکائيت بھی کر رہے ہيں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی حمائيت بھی کر رہےہيں-

Running with the hare and hunting with the hounds

“آپ کا مقصد موضوع پر مثبت گفتگو کرنا نہیں بلکہ پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ ”

آپکے اپنے ليئے کچھ اصول ہيں اور دوسروں کے ليئے کچھ اور جب ياد دلايا جائے تو ناراض ہوکے ادھر ادھر کی باتيں شروع کر ديتے ہيں- آپ کو امريکہ ميں رہتے ہوئے بھی انسانی حقوق اور سول لبرٹيز کے بارے ميں کنفيوزن ہے؟

حقيقت تو يہ ہے کہ يہ پوئيٹک جسٹس ہے- جيسا آپ کرتے چلے آرہے ہيں ويسا ہی اب آپ کے ساتھ ہونا شروع ہوگيا ہے- آپ نے خود ہی انسانی حقوق کے اصولوں کو کبھی تقويت دينے کی کوشش نہيں کی اب بھگتيئے- مزيدار بات يہ ہے کہ ابھی بھی آپ کا ايک جملہ انسانی حقوق کے حق ميں ہے تو دوسرا جملہ انسانی حقوق کے خلاف ہے- ايسے ميں کون آپکے واويلے کو سنجيدگی سے لے؟ امريکہ ميں رہنے والے کو اسی باتيں بتانے کی ضرورت تو نہيں ہونی چاہيئے ليکن۔۔۔۔۔

راشد کامران

July 14th, 2009 at 5:46 pm    


میر صاحب میں نے پوسٹ‌میں عرض‌ کی ہے کہ فرانس میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہنے پر پابندی ہے اس پر قانون سازی ہوچکی ہے۔ آپ شاید باقاعدگی سے میری کچھ پوسٹس نہیں پڑھتے رہے اس لیے آپ کے خیال میں یہ مغرب پر بلا وجہ کی تنقید ہے حالانکہ اس پوسٹ‌ کا اولین مقصد شدت پسندی کو موازنہ ہے چاہے وہ کسی بھی شکل اور کسی بھی ٹول کو استعمال کر کے کی جائے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہاں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کسی طور مثالی نہیں‌ رہی ہے لیکن جس چیز کی طرف سے نظریں چرا لی جاتی ہیں‌ وہ روشن خیالی یا جمہوریت کی آڑ‌میں کی روا رکھی جانے والی شدت پسندی ہے جو ایسے معاشروں میں عام ہورہی ہے جو اپنے آپ کو ایک طرف انسانی حقوق کا علمبردار بھی کہتے ہیں اور فرانس، برطانیہ اور امریکہ ان میں سر فہرست ہیں۔ احمدیوں یا قادنیوں کے ساتھ پاکستانی معاشرے میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں‌ لیکن آپ کے دیے گئے قانون کے ریفرنس میں کہیں درج نہیں‌ کہ قادیانی مسلک کے لوگوں کو جیل میں‌ ڈال دیا جائے، ایسا اگر ماورائے قانون کیا جاتا ہے تو پاکستان میں‌ اور مختلف حوالوں‌ سے یہ غیر معمولی صورت حال نہیں‌ لیکن ایک غلط کو دوسرے غلط کا جواز بنانا بذات خود غلط ہے اور یہ لاجک کسی صورت قابل قبول نہیں۔

باقی آپ کا امریکہ میں‌ رہنے والی بات تو یہ اس سے یہی نکتہ نکلتا ہے کہ آپ مثبت بحث کرنے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے لیے اسطرح‌ کے تبصرے کررہے ہیں۔ اور واویلا سنجیدگی سے لیا جاتا ہے نہیں لیا جاتا، کوئی پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا اس سے بلاگر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ کے خیال میں‌ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو پہلے ہی قدم پر اس لاحاصل سعی سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیے اور یہاں‌ بے موضوع لا حاصل احتجاج نہیں ریکارڈ کروانا چاہیے۔

ًMeer

July 14th, 2009 at 7:50 pm    


“میر صاحب میں نے پوسٹ‌میں عرض‌ کی ہے کہ فرانس میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہنے پر پابندی ہے اس پر قانون سازی ہوچکی ہے۔ آپ شاید باقاعدگی سے میری کچھ پوسٹس نہیں پڑھتے رہے”

جناب عالی ميں مغرب ميں ہی رہتا ہوں اور ان تمام ايشوز سے واقف ہوں- آپ صرف سکول کی سطح پہ
ايک ايسے عمل پہ پابندی جس پہ بہت سی مسلمان خواتين ويسے ہی عمل نہيں کرتيں کو تبليغ پہ مکمل پابندی کے ساتھ کسطرح جوڑ سکتے ہيں؟ تبليغ پہ کسی کو جيل ميں ڈالنا نا صرف انسانی حقوق کی شديد خلاف خلاف ورزی ہے بلکہ ايک کمييونٹی کو قتل کردینے کے مترادف ہے-

اسکے علاوہ بھی آپ گويا يہ کہ رہے ہيں کہ رسول خدا کو تبليغ کرنے پہ کفار جو ايذا ديتے تھے اسکو کم ازکم اصولی طور پہ نظرانداز کيا جاسکتا ہے- يہ آپکا مقصد نہيں تھا ليکن اسکو اس گفتگو سے اخذ ضرور کيا جا سکتا ہے-

“جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہاں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کسی طور مثالی نہیں‌ رہی ہے لیکن جس چیز کی طرف سے نظریں چرا لی جاتی ہیں‌ وہ روشن خیالی یا جمہوریت کی آڑ‌میں کی روا رکھی جانے والی شدت پسندی ہے جو ایسے معاشروں میں عام ہورہی ہے جو اپنے آپ کو ایک طرف انسانی حقوق کا علمبردار بھی کہتے ہیں اور فرانس، برطانیہ اور امریکہ ان میں سر فہرست ہیں۔ ”

يہاں دو باتيں عرض کروں گا- ايک چونکہ، معذرت کے ساتھ، آپ لوگ خود بحيثيت مجوعی (مذہب کے نام پہ) انتہاپسندی ميں ملوث ہيں آپ کسی دوسرے کو کہنے کا کيا حق رکھتے ہيں؟ يعنی ايک چور کيسے کسی کو چوری پہ طعنے دے سکتا ہے؟ اور جتنا آپ (ذاتی طور سے نہ صحيع) انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں کو درست ثابت کرتے ہيں اتنا ہی دوسروں کو کہنے کا اخلاقی جواز کھوتے جاتے ہيں-

دوسرا يہ کہ آپ کي (مذہب کے نام پہ) انتہاپسندی ہی کيا آپ کے خلاف پابنديوں کا جواز نہيں؟ دنيا خوفزدہ ہے کہ اگر آپ غالب آگئے تو ويسا ہی تنگ نظری کا مظاہرہ کريں گے جيسا کہ مثلا اوپر کے قانون ميں، اس ليئے اس ”برائي” کو ابتدا ميں ہی ختم کرنے کی کو شش ہورہی ہے- ميں پابنديوں کے حق ميں نہيں ہوں ليکن عرض کروں گا کہ اپنے رويہ سے

you are asking for it

اب اپنے آپ کو ہی لے ليجيئے، تبليغ پہ پابندی اور تبليغ پہ جيل ميں ڈالنے جيسے زمانہ جاہليت کی ياد دلانے والے قبيح فعل پہ آپ جس نرمی سے کام لے رہے ہيں کيا اس قسم کے کام پہ اس قسم کی نرمی کا امريکی معاشرہ ميں تصور بھی کيا جاسکتا ہے؟ اور اگر مغرب ميں آپکو تبليغ کرنے پہ جيل بھيجنا شروع کرديا جائے تب بھي آپ اتنی ہی نرمی کا مظاہرہ کريں گے؟ آپ جو کہ سارکوزی کے صرف بيان پہ ہی اتنے ناراض ہيں- اس پہ کون آپکا ساتھ دے اور کون آپ سے خوف نہ کھائے- مغرب ميں اگر لوگ آپ کے خلاف ہورہے ہيں تو آپ ان کو اسکا پورا پورا جواز مہيا کرنے ميں لگے ہوئے ہيں- ایک غلط دوسرے غلط کا جواز نہيں ہے کہنے سے بات بنتی اگر آپ خود پہلی غلطی ميں مبتلا نہ ہوتے- آپ تو دوسرے کے غلط کو اپنے غلط کو چھپانے کے لئيے استعمال کرہے ہيں-

ًMeer

July 14th, 2009 at 8:43 pm    


“!آپ کے دیے گئے قانون کے ریفرنس میں کہیں درج نہیں‌ کہ قادیانی مسلک کے لوگوں کو جیل میں‌ ڈال دیا جائے، ”

آپ نے غور سے قانون کی عبارت نہيں پڑہي-

“in any manner whatsoever outrages the religious feelings”

يہ ايک

catchall

قانون ہے يعنی کسی بھی بات پہ ”مذہبی جذبات” ”مجروح” کرليں اور بندہ جيل ميں- يعنی کوئی

absolute unalienable rights

نہيں بلکہ عوام کی پسند نا پسند پہ چھوڑ ديا- حقوق نہ ہونا

slavery

ہے اور عوام کی پسند نا پسند پہ چھوڑ نا

mob rule

ميں وقت کی کمی کی وجہ سے زيادہ تبصرہ نيں کررہا ليکن اگر آپ کو اس قانون کے زمانہ جاہليت سے ہونے ميں کوئی شبہ ہے تو اسے کسی امريکی وکيل کے پاس لےجائيں، اگر اسے پڑھ کے وہ کرسی سے گر نہ جائے تو پھر کہيئے-

اس قانون کے استعمال کی متعدد مثالوں ميں سے ايک مثال;

PAKISTAN: Two murdered and 15 charged as discrimination against Ahmadis continues unabated

http://ahrchk.net/statements/mainfile.php/2009statements/1947/

ايک حوالہ؛

“It is disturbing to note how easily Ahmadis can be arrested on arbitrary grounds, based on the hearsay of an openly prejudiced person.”

راشد کامران

July 14th, 2009 at 9:36 pm    


اصولا مغرب میں روشن خیالی کی آڑ میں پیدا شدت پسندی کے موضوع پر لکھی گئی پوسٹ گو کہ میر صاحب آپ انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کی طرف لے گئے ہیں جس کادائرہ وسیع ہے اور صرف شدت پسندی اس کی بنیادی وجہ نہیں۔ فرض کریں میں آپ کے سارے نکات مان لیتا ہوں‌ تو آپ کے دیے گئے کلیے کے مطابق کیونکہ ہم میں سے کچھ شدت پسندی میں ملوث ہیں اس لیے ہمیں اس کے خلاف کچھ کہنے کا حق نہیں تو اس قاعدے کی رو سے مغرب کو بھی کسی طور کچھ کہنے کا حق نہیں ملتا کیوں کے مذہبی آزادی ہر قدغن وہاں بھی ہے اور مزید لگائے جانے پر غور ہے، مذہبی شدت پسندی کے مظاہرے قتل کی صورت میں وہاں بھی ظاہر ہیں گو کہ اسے لون وولف کی دلفریب اصطلاح سے چھپایا جاتا ہے، اسی طرح امریکی حکومت کا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد اب یہ حق نہیں ہے کہ کسی بھی ملک کو انسانی حقوق کا لیکچر دے۔ اور یہ آپ کے وضع کردہ کلیے کی رو سے حاصل کیا گیا نتیجہ ہے جسے لامحالہ اپ رد کردیں گے بالکل اسطرح‌ جسطرح آپ نے رسول اللہ کو دی جانے والی اذیت کو نظر انداز کرنے کا ایک مضحکہ خیز خیال میری تحریر میں گھڑا ہے حالانکہ پوری بحث میں آپ کے دیے گئے ریفرنس یعنی آرڈیننس کے حق میں میری طرف سے کوئی دلیل پیش ہی نہیں گئی اور نہ میں اس کے حق میں ہوں میرا مقصد اس طرف توجہ دلانی تھی کہ آپ نے یہ خیال پیش کیا تھا کہ محض قادیانی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں گرفتار کرلیا جاتا ہے حال۔ مزید یہ کہ امریکی وکیلوں‌کے لیے کرسی سے گرنے کی کوئی لوکل وجوہات ہی کافی ہیں جو بش دور میں کیے جانے والے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات اور قوانین کی شکل میں موجود ہیں اور زیر نظر آرڈیننس تو ان ایکٹس کے سامنے کسی طرح شاکنگ نہیں۔

صورت حال یہ ہے کہ ہر معاشرے میں معتدل، قدامت پسند اور جدیدیت کے حامی لوگ موجود ہوتے ہیں اور یہ صرف اصطلاح کی صورت میں استعمال کیا ہے تاکہ سوسائٹی کے طبقات واضح کیے جاسکیں لیکن کوئی بھی طبقہ شدت پسندی کی طرف جاسکتا ہے اور دوسرے طبقات کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اس شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کریں۔ یہ ہم مذہب کے نام پر پاکستان میں موجود شدت پسندی کے خلاف بھی کرتے رہیں ہیں۔ اور یہ ہم جمہوریت اور روشن خیالی کی آڑ میں روا رکھے جانے والے شدت پسندانہ رویوں کے خلاف بھی کر رہے ہیں۔ اور یہ صرف ان مخصوص طبقات کے لیے ہے جو شدت پسندی میں ملوث ہیں یا کسی بھی صورت انسانی آزادی کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں اس سے مراد ایک مکمل مذہب، ایک مکمل ملک اور ایک مکمل سوسائٹی قعطا نہیں ہے۔

میرا خیال ہے اس پر سیر حاصل بحث ہوچکی ہے اور تمام لوگ اپنے نکتہ نظر کو تفصیل سے بیان کرچکے ہیں اور بحث ایک اختلافی نکتے پر مرتکز ہورہی ہے جس میں یقینا دو سے زیادہ رائے ہیں تو اس کو یہاں سیمیٹیے اور قاری کو خود فیصلہ کرنے دیں۔ اور اگر آپ کے خیال میں مزید مقدمہ پیش کیا جاسکتا ہے تو آپ اپنے بلاگ پر تفصیل کے ساتھ مدعا بیان کیجیے لیکن ہم لوگ دائیں اور بائیں جانب کی شدت پسندی سے انسانی حقوق کی صورت حال پر منتقل ہورہے ہیں جو بالکل علحیدہ بحث ہے ۔

ابوشامل

July 14th, 2009 at 10:21 pm    


راشد بھائی! ایک بات مجھے بہت کھٹکتی ہے کہ جمہوری ممالک میں ہمیشہ سیاست دان وہی بات سب سے زیادہ اٹھاتے ہیں جس پر انہیں عوام کی جانب سے تائید حاصل ہونے کا زیادہ امکان ہو۔ جیسے پاکستان میں “روٹی کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ مغرب میں اب جو سیاسی سطح پر اسلام یا مسلم مخالفت کا رحجان پیدا ہو چکا ہے وہ بھی اس امر کا اظہار ہے کہ وہاں ماحول کچھ اس طرح کا بنا دیا گیا ہے جہاں اسلام مخالف بات پر عوامی ہمدردی سمیٹی جا سکتی ہے۔ چاہے وہ عراق کے خلاف جنگ کو “کروسیڈ” قرار دے کر سمیٹی جائے یا عیسائیوں کے خدا کو مسلمانوں کے خدا سے برتر قرار دینے کا دعویٰ کر کے حاصل کی جائے یا پھر برقعہ کو جہالت کی علامت سمجھ کر کی جائے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کی آخری کوششیں ہیں، انہیں تو بخوبی اندازہ ہے کہ عالمی قیادت اگر کوئی ان سے چھین سکتا ہے کہ تو اسلام ہے لیکن افسوس کہ مسلمانوں کو اس امر کا اندازہ نہیں۔ علامہ اقبال شیطان کے الفاظ میں کہہ گئے تھے (ابلیس کی مجلس شوریٰ، ارمغان حجاز)
ہے اگر کوئی خطر تو مجھ کو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

جعفر

July 15th, 2009 at 12:06 am    


مجھے دانشور ہونے کا کوئی دعوی نہیں
نہ ہی پڑھا لکھا ہونے کا
لیکن اس مباحثے سے ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے
ظلم تو کشمیریوں پر بھی بہت ہوا ہے اور ہورہا ہے
فلسطین میں جو ہوا اور ابھی تک ہورہا ہے، وہ بھی ظاہر و باہر ہے
اس کے مقابلے میں درج بالا آرڈیننس ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں لگتا
لیکن ان کشمیریوں اور فلسطینیوں کو مغربی دنیا میں اس بناء پر سیاسی پناہ کیوں‌ نہیں ملتی
یہ مہربانیاں صرف قادیانی حضرات پر ہی کیوں ہیں۔۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

بیگ صاب

July 15th, 2009 at 4:06 am    


قادیانیت کے خلاف سخت اقدامات میرے خیال سے اس لٕئے ضروری ہیں کہ پاکستان کی نظریاتی اساس اسلام ہے اور قادیانیت اس پر براہ راست ضرب لگاتی ہے۔ کسی بھی ملک کی نظریاتی اساس کو چیلنج کرنے کا مطلب ہے بغاوت اور بغاوت کی سزا کہیں‌بھی سوائے موت کے اور کچھ ہوتی نہیں ۔ تو اگر آپ لوگوں‌کو صرف جیل میں‌ڈالا جا رہا ہے تو کیا مسئلہ ہے؟‌سودا سستا ہی ہے!

اور پھر قادیانی مظلوم ایسے بنتے ہیں‌جیسے کوئی بے ضرر سی باتیں‌ہوں‌جو وہ کہتے ہوں۔ مرزا قادیانی کی کتابیں‌بھری پڑی ہیں‌ مغلظات سے، انبیا ؕؑ اور سلف صالحین کی شان میں‌گستاخی سے۔ اور تو اور اللہ تعالیٰ‌کی شان میں‌بھی گستاخیاں‌ہیں‌ان کتابوں‌میں۔ میری ہمت نہیں‌ہو رہی یہاں‌لکھنے کی ورنہ میں‌بتاتا کہاں‌ کے عقائد کیا ہیں!

مجھے پتہ ہے میں‌موضوع سے ہٹ کر گفتگو کر رہا ہوں۔ لیکن آپ میں‌سے چند لوگوں‌کے معذرت خواہانہ رویہ کی وجہ سے میں‌نے یہ رائے یہاں‌دی ہے۔

راشد کامران

July 15th, 2009 at 11:45 am    


بیگ صاحب اس “غیر معذرت خواہانہ” رویے میں ایک بہت بڑا سقم ہے کیونکہ جو نسخہ آپ تجویز کررہے ہیں اگر اس نسخے کو عالمی پذیرائی مل جائے اور اکثریت کے عقائد سے اختلاف یا کسی دوسرے نظریے اور مذہب کی دعوت کی اجازت پر آپ کے وضع کردہ اصول کے مطابق پابندی لگا دی جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان تو اسلام کے دعوت مشن کو ہی پہنچے گا۔ اگر اس اصول کی بنیاد پر عیسائی اکثریتی ملکوں میں اسلامی اصولوں کو اپنے مذہب اور ملک کی اساس کے لیے خطرہ قراد دے کر اس کی تبلیغ پر پابندی لگا دے اور عیسی علیہ السلام کو ابن اللہ نہ ماننے کے سبب توہین مسیح کے الزام میں‌ تمام مسلمانوں‌ کو جیل میں ڈال دے تو پھر آپ کی رائے اس بارے میں‌ کیا ہوگی؟‌ اسی لیے دین نے حکمت کا حکم دیا ہے، ورنہ آج کے مسلمانوں کے خیال میں تو صلح ہدیبیہ بھی شرائط بھی معذرت خواہانہ ہی ہیں کیونکہ ہم مر جاؤ یا ماردو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ بات بہت نقصان کا باعث‌بن رہی ہے کہ وہ اپنے لیے ہر قسم کا استثناء چاہتے ہیں‌ لیکن کسی دوسرے کو ایک انچ رعایت دینے کو تیار نہیں‌۔ تحریر کا مقابلہ تحریر اور تقریر کا تقریر سے کرنا ہی زیادہ مناسب ہے لفظوں کے مقابلے تلوار نکال لینے سے خود ہمیں ہی نقصان پہنچ رہا ہے۔

بیگ صاب

July 15th, 2009 at 12:26 pm    


جناب، مسٕئلہ یہی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس اسلام ہے۔ اس کی بنیاد جس فلسفہ پر ہے اگر کوئی اسی پر تیشہ چلائے تو ایسا کرنے دینا محض حماقت ہے اور کچھ نہیں۔ ۡقادیانیوں‌کی کتابوں‌میں‌قدم قدم پر ہماری پیاری ہستیوں‌کی شان میں‌گستاخی کی گئی ہے۔ تو اس لٹریچر کو پھیلنے دینے کا یہی مطلب ہے کہ ہم ان گالیوں‌کو صحیح سمجھتے ہیں، نعوذ باللہ۔ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ کوئی شخص اپنی والدہ کی بہت عزت کرے، بہت پیار دے انہیں‌لیکن کوئی انہیں‌گالی دے تو اسے کچھ نہ کہے، بلکہ اس کو اجازت دے دے کہ جاؤ بھائی پورے محلہ میں‌یہ بات کرو جس سے چاہو کرو، کیونکہ میرے خیال سے آپ کو پورا حق حاصل ہے۔سہل ترین الفاظ‌میں‌یہ حماقت ہے ورنہ قلم پر تو اور ثقیل لفظ‌آرہا ہے!
جناب، رسولؐ اللہ کی سیرت طیبہ ہمارے لئے ہر معاملہ میں‌نمونہ ہے، جب مدینہ کی اسلامی ریاست میں‌کعب بن اشرف نامی یہودی کی ہرزہ سرائیاں‌انتہا کو پہنچ کئیں‌تو رسول ؐاللہ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا، اور چند صحابؓہ نے اس کو اس کے گھر سے باہر بلا کر قتل کر دیا۔

راشد کامران

July 15th, 2009 at 12:39 pm    


بھائی میرے نظریاتی اساس اتنی کمزور نہیں‌ ہے کہ چند لوگوں کی ہرزہ سرائیوں سے ڈھ جائے گی ۔۔ اور اگر ایسا ہے تو ہمارے لیے لمحئہ فکریہ ہے۔ باقی تو آپ پھر جذباتی باتیں‌ لے بیٹھے لیکن آپ نے اس بات پر آپ نے رائے نہیں دی کہ اگر دوسرے بھی اپنی نظریاتی اساس اور مملکت کے ستون کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو جیل میں ڈالیں اور دعوت پر پابندی لگائیں تو آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں۔

بلا شبہ رسول اللہ کی صورت ہمارے لیے نمونہ ہے اور رسول اللہ نے گند اچھالنے والوں پر گند نہیں اچھالا بلکہ اپنے اخلاق سے زیر کیا اور ایک خاص یہودی کے قتل کا حکم دیا یہودیت کے قتل کا نہیں اور اس میں‌ بڑا فرق ہے اسے ملحوظ رکھیں۔

بیگ صاب

July 15th, 2009 at 4:26 pm    


جی یقیناً۔ مکہ کی نظریاتی اساس تھی بت پرستی۔ اس کے خلاف بولنے پر جو سختیاں‌رسولؐ اللہ اور ان کے صحابہؓ کو اٹھانی پڑیں‌اس پر کچھ کہنا سورج کو چراغ‌دکھانے کے مترادف ہے۔ تو بھائی فتنہ کے دور میں‌دین پر چلنا آسان تو نہیں‌ہے۔ اللہ نے یہ وعدہ نہیں‌کیا کہ کانٹا بھی نہیں‌چبھے گا، بلکہ اللہ تو فرماتا ہے کہ ہم لازماً آزمائیں گے لوگوں‌کو۔ (سورۃ‌ عنکبوت)
تو اگر لگتی ہے پابندی لگے، نتائج کی ذمہ داری ہماری نہیں‌ہے، ہماری ذمہ داری کوشش کی ہے، جتنی مشکل ہو گی انعام بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔
اور اگر ہم نہیں کرتے یہ، تو اللہ کا تو ہم کچھ نقصان نہیں‌کر سکتے نہ ہی یہ قادیانی نہ جن کے یہ پٹھو ہیں‌یعنی یہودی۔ نقصان اپنا ہی ہے۔ اللہ کسی اور قوم کو لے آئے گا جو اس سے محبت کریں‌گے اوروہ ان سے محبت کرے گا (سورۃ المائدہ)۔ اللہ مجھے اور ہم سب کو اللہ کے محبوب بندوں‌میں‌شامل فرمائے آمین۔

راشد کامران

July 15th, 2009 at 10:27 pm    


بیگ صاحب۔۔ مکے کی نظریاتی اساس بت پرستی تھی؟ میرا خیال ہے آپ تھوڑی سی تاریخی کتابوں‌کی گرد اڑا لیں۔

بیگ صاب

July 16th, 2009 at 4:02 pm    


جناب، نظریاتی اساس کہتے کس کو ہیں؟‌ وہ جس پر کسی وجود کی بنیاد ہوتی ہے۔ جس کو للکارنے کا مطلب ہے سب کو دشمن بنا لو۔ اور کیا چیز ہوتی ہے نظریاتی اساس؟‌تمام عرب کے بت خانہ کعبہ میں، رسولؐ اللہ نے ان کے انہی بتوں‌کو جھوٹا قرار دے دیا۔ سب سے پہلے دشمن اپنے قبیلے والے، اپنا سگا چچا سب سے بڑا دشمن۔ تو نہ خاندان اہم، نہ قبیلہ، نہ زبان، نہ کلچر، نہ تجارت۔ اب کیا بچا ؟
تاریخی کتابوں‌کا میں‌نہیں‌جانتا ہاں‌ایک “تاریخ‌کی کتاب ” ہے، الرحیق المختوم، امید ہے اس کا مطالعہ آپ کی کافی غلط فہمیوں‌کا ازالہ فرما دے گا۔ ورنہ مجھے حوالہ دے دیجئے میں‌ شاید پڑھ پاؤں‌اسے۔

فیصل

July 26th, 2009 at 5:53 am    


میرے خیال میں اس خوف سے کہ کہیں مغرب اپنے ہاں اسلام کی تبلیغ کو غیر قانونی قرار دے دے، پاکستان میں قادیانیت کی تبلیغ کی اجازت دینا کوئی صحیح عمل نہیں۔ اسلام ویسے بھی تبلیغ سے زیادہ سیاسی فتوحات سے پھیلا۔ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلام عرب سے نکل کر ساری دنیا میں پھیلا اور اسکی وجہ وہ فوجی فتوحات تھیں جو اس زمانے میں ہوئیں۔ جب ایک ملک فتح ہوتا ہے تو اسکے عوام کا فاتح کے طرزَ زندگی کو اختیار کرنا قدرتی امر ہے جیسے آج بھی ہم اپنے سابقہ آقاؤں کی نقل میں انگریزی بولنا باعث فخر سمجھتے ہیں۔
مجھے شرعی حکم نہیں معلوم لیکن محدود معلومات کی روشنی میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ اسلامی ریاست میں دوسرے مذاہب کی تبلیغ ممنوع قرار پاتی ہے۔ غیر مسلم کی مرضی کہ وہ وہاں رہیں یا ہجرت کر جائیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان چوں چوں کا مربہ ہے، نہ تو مغربی جمہوریت یہاں ہے کہ جہاں اگر عوام ہم جنس پرستی کے حق میں ووٹ دیں تو وہ جائز قرار پاتی ہے اور نہ ہی یہاں اسلامی قوانین رائج ہیں کہ جہاں ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ بہر حال ریاست کی ذمہ داری ہے، سزا کا اختیار بھی ریاست کے ہی پاس ہے نہ کہ لوگ اپنے تئیں فیصلے کرنے لگیں۔
اس سب کو دیکھیں تو قادیانیوں کے ساتھ پاکستان میں زیادتیاں ہوتی ہیں لیکن اس میں‌کسی حد تک قصور انکا اپنا بھی ہوتا ہے کہ خلاف قانون کوئی کام کریں۔ اب یا تو وہ ان قوانین کو تبدیل کرا لیں پارلیمنٹ سے اور یا پھر گزارا کریں اور یا پھر اسلامی ریاست کے قیام کا انتظار بلکہ اس جانب کوشش کریں کہ پھر انکے جان و مال کا تحفظ ریاست کریگی بعوض چند شرائط پر عمل در آمد کرنے کہ یعنی جزیہ کی ادائیگی اور اپنی مذہب کی تبلیغ سے اجتناب۔ مزے کی بات کہ پھر انکو فائدہ تو پھر بھی کوئی نہ ہوا کہ سار ا جھگڑا ہی اپنے مذہب کی تبلیغ کا تھا۔

اس بارے میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں

Name *

Mail *

Website