<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: گھر کا چراغ</title>
	<atom:link href="http://www.urdublogging.com/?feed=rss2&#038;p=505" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdublogging.com/?p=505</link>
	<description>راشد کامران</description>
	<lastBuildDate>Thu, 02 Sep 2010 07:12:59 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
	<item>
		<title>By: عرفی دُرانی</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1724</link>
		<dc:creator>عرفی دُرانی</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 20 Feb 2010 17:11:54 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1724</guid>
		<description>ابو شامل صاحب، كیا آپكا مطلب یہ ہے كہ جنگجوؤں كو &quot; لا ك &quot; (LOC) كے  پار بھیجھتے رہنا اچھی  حكمتِ عملی ہوتی؟
راشد صاحب تو شائد اس سے متفق نہ ہوں تاہم میری رائے میں مجاہدین كی عسكری تربیّّت كے ساتھ نظم و ضبط ، تعلیم اور كردار كی تعمیر بہت ضروری ہے تا كہ انہیں بوقتِ ضرورت نہ تو دارلسلام (Civil Society)  میں رہنے اور ڈھلنے (integerate) میں كوئی دقّت ہو اور نہ ہی حسبِ  ضرورت دوبارہ جہاد كرنے میں كوئی ھچكچاہٹ ۔ ہر صورت میں وہ ریاست كے  كنٹرول میں رہنے چاہئیں نا كہ اگر ریاست بدلے ہوئے حالات میں میں اپنی حكمتِ عملی تبدیل كرنا چاہے تو وہ خود كار (Automatic) اور بے نظم جنگجو بن جائیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ باقائدہ فوج كی طرح یا صرف فوجی ہی ہوں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ابو شامل صاحب، كیا آپكا مطلب یہ ہے كہ جنگجوؤں كو &#8221; لا ك &#8221; (LOC) كے  پار بھیجھتے رہنا اچھی  حكمتِ عملی ہوتی؟<br />
راشد صاحب تو شائد اس سے متفق نہ ہوں تاہم میری رائے میں مجاہدین كی عسكری تربیّّت كے ساتھ نظم و ضبط ، تعلیم اور كردار كی تعمیر بہت ضروری ہے تا كہ انہیں بوقتِ ضرورت نہ تو دارلسلام (Civil Society)  میں رہنے اور ڈھلنے (integerate) میں كوئی دقّت ہو اور نہ ہی حسبِ  ضرورت دوبارہ جہاد كرنے میں كوئی ھچكچاہٹ ۔ ہر صورت میں وہ ریاست كے  كنٹرول میں رہنے چاہئیں نا كہ اگر ریاست بدلے ہوئے حالات میں میں اپنی حكمتِ عملی تبدیل كرنا چاہے تو وہ خود كار (Automatic) اور بے نظم جنگجو بن جائیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ باقائدہ فوج كی طرح یا صرف فوجی ہی ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1619</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 23 Jan 2010 21:03:11 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1619</guid>
		<description>محمد یاسین صاحب۔۔ شکریہ۔۔ 
اردو میں کیسے کود کرتے ہیں سے میں یہ سمجھا ہوں کہ آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اردو میں کیسے بلاگنگ کرتے ہیں تو اس کے لیے کئی ذرائع دستیاب ہیں۔۔ آپ اس پوسٹ پر اردو بلاگنگ سے متعلق تمام معلومات حاصل کرسکتے ہیں جہاں میں‌نے کئی لنکس یکجا کردیے ہیں

http://www.urdublogging.com/?p=410</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محمد یاسین صاحب۔۔ شکریہ۔۔<br />
اردو میں کیسے کود کرتے ہیں سے میں یہ سمجھا ہوں کہ آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اردو میں کیسے بلاگنگ کرتے ہیں تو اس کے لیے کئی ذرائع دستیاب ہیں۔۔ آپ اس پوسٹ پر اردو بلاگنگ سے متعلق تمام معلومات حاصل کرسکتے ہیں جہاں میں‌نے کئی لنکس یکجا کردیے ہیں</p>
<p><a href="http://www.urdublogging.com/?p=410" rel="nofollow">http://www.urdublogging.com/?p=410</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محد یاسین</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1614</link>
		<dc:creator>محد یاسین</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 23 Jan 2010 17:22:29 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1614</guid>
		<description>سلام
ماشاللہ 
زبردست لکھا ھے۔ آپ اردو میں کیسے کود کرتے ھیں؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>سلام<br />
ماشاللہ<br />
زبردست لکھا ھے۔ آپ اردو میں کیسے کود کرتے ھیں؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: منیر عباسی</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1489</link>
		<dc:creator>منیر عباسی</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 07 Nov 2009 03:51:58 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1489</guid>
		<description>محترم ابو شامل نے اپنے آخری تبصرے میں کافی کچھ ایسا کہہ ڈالا ہے جس سے میں بھی متفق ہوں۔ گویا اب میں اکیلا نہیں رہا ۔ 
(:</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محترم ابو شامل نے اپنے آخری تبصرے میں کافی کچھ ایسا کہہ ڈالا ہے جس سے میں بھی متفق ہوں۔ گویا اب میں اکیلا نہیں رہا ۔<br />
(:</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1429</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2009 16:18:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1429</guid>
		<description>ابوشامل صاحب اطمینان سے میری مراد یہی تھی کہ &quot;روس كے ماضی دیکھتے ہوئے اس جنگ کے پاکستان کے دفاع کی جنگ ہونے پر اطمینان رکھا جاسکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں اس مقدمہ سے انکار ممکن نہیں&quot;۔ اور جنگ کے بعد کی صورت حال میں‌ شاید ہم ایک ہی بات پر متفق ہیں۔

میں‌نے اپنے تبصرے میں ردو بدل کردیا ہے تاکہ کوئی دسرا قاری مخمصہ کا شکار نا ہو۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ابوشامل صاحب اطمینان سے میری مراد یہی تھی کہ &#8220;روس كے ماضی دیکھتے ہوئے اس جنگ کے پاکستان کے دفاع کی جنگ ہونے پر اطمینان رکھا جاسکتا ہے یا دوسرے لفظوں میں اس مقدمہ سے انکار ممکن نہیں&#8221;۔ اور جنگ کے بعد کی صورت حال میں‌ شاید ہم ایک ہی بات پر متفق ہیں۔</p>
<p>میں‌نے اپنے تبصرے میں ردو بدل کردیا ہے تاکہ کوئی دسرا قاری مخمصہ کا شکار نا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1426</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2009 09:08:48 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1426</guid>
		<description>ویسے یہ &#039;اطمینان&#039; مجھے سمجھ نہیں آیا راشد بھائی۔ روس کا ماضی یہ تھا کہ وہ جہاں گیا واپس نہیں لوٹا اور کبھی بھی وہاں نہیں رکا بلکہ مزید آگے بڑھا۔ افغانستان میں روس کو جن لوگوں نے مدعو کیا، ان کا اثر و رسوخ پاکستان میں افغانستان سے بھی زیادہ تھا۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ جب سوویت اتحاد افغانستان میں داخل ہوا تھا تو یہاں ہمارے ہاں کے &#039;سرخ&#039; حلقے یہ کہتے تھے کہ &quot;انقلاب درۂ خیبر پر دستک دے رہا ہے&quot;۔ اس صورتحال میں پاکستان کی پوزیشن افغانستان سے بھی زیادہ نازک تھی۔ افغانستان پر قبضے کے بعد کچھ بعید نہ تھا کہ یہ حلقے وہی حرکت کرتے جو روسی قبضے سے قبل آخری افغان حکومت نے کی کہ انہوں نے دوستی کے معاہدے کے تحت روسی افواج کو افغانستان میں طلب کیا۔ سرحد میں اے این پی کا کتنا زور تھا اور سندھ میں جیے سندھ والوں کی نظر میں روس کی کیا اہمیت تھی؟ اس سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔ 
جنگ افغانستان کے حوالے سے تین فریقین غلطیوں کے مرتکب ہوئے۔ امریکہ، پاکستانی حکومت اور مذہبی جماعتیں۔ سب سے پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ امریکہ نے افغانستان میں ویت نام کی شکست کا بدلہ تو لے لیا لیکن جنگ کے بعد ملبہ اٹھانے سے انکاری ہو گیا بلکہ وہ سارا ملبہ پاکستان کے اوپر ڈال دیا گیا جسے پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ دوسری غلطی یہاں کی جہادی قوتوں سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افغانستان میں لڑنے والے جنگجوؤں کو ایک مرتبہ پھر زندگی کے عام دھارے میں شامل کرنے کے لیے کچھ نہ کیا۔ نتیجتاً ایک مرتبہ اسلحے کے ساتھ زندگی گزارنے کا مزہ چکھ لینے والے افراد کے لیے یہی ایک راہ بچی کہ وہ دوبارہ اسلحہ اٹھالیں۔ تعلیم کی کمی اور قیادت کے فقدان نے اس جلتی پر تیل چھڑکا۔ رہی سہی کسر لائن آف کنٹرول کے ساتھ باڑھ کی اجازت نے پوری کر دی یوں ان عناصر کو اپنی بھڑاس نکالنے کو کوئی میدان نہ ملا۔ سوچنے میں تو یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ آپ ایک طبقے کو مستقلاً جنگوں میں جتا دیں لیکن تاریخ میں کئی حکومتیں ایسی تھیں جنہوں نے جنگجوؤں اور وحشی قبائل کو ہمیشہ جنگوں میں ملوث رکھا بلکہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی &#039;اسلامی&#039; فتوحات محض اپنی حکومتوں کو بچانے کے لیے مرتب کی گئی حکمت عملی کے تحت ہوئیں، تاکہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی ممکنہ باغی عناصر کو کہیں اور لڑائیوں میں لگا دیا جائے۔ بعد میں ایسا ترک اور ترکمان قبیلوں کے ساتھ بھی کیا گیا کہ انہیں مستقل جنگوں میں مصروف رکھا جاتا۔ اس طرح تعلیم و تربیت نہ کرنے اور عام زندگی کی دوڑ میں دوبارہ شامل نہ کرنے کے بعد یہ ممکنہ دوسرا آپشن بھی ہم نے ضایع کیا۔ 
تیسری غلطی، جو کہیں زیادہ بھیانک تھی، وہ مذہبی جماعتوں سے ہوئی، روسی شکست کے بعد ہماری ہاں کی مذہبی قوتیں اس زعم میں مبتلا ہوئیں کہ وہ اب دنیا کی ہر قوت کو پاش پاش کر سکتی ہیں اور دماغ کے اسی خناس نے القاعدہ، الفائدہ وغیرہ کو جنم دیا۔ لال قلعے پر سبز علم لہرانے جیسی بچکانہ باتیں اس بات کا مظہر تھیں کہ مذہبی جماعتیں کتنی visionary ہیں اور ان کی mental approach کیا ہے؟ اور مجھے پورا اندازہ ہے کہ اب جبکہ بہت زیادہ پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے، اس کے باوجود حالات کا درست ادراک کوئی مذہبی جماعت نہیں کر رہی۔ افسوس اس بات کا زیادہ ہے کہ یہ اپنے ہی اکابرین کے افکار کے خلاف جا رہے ہیں۔ مجھے الفائدہ مذہبی جماعتوں کا تو کوئی افسوس نہیں کہ ان کا وژن ہمیشہ ایک جیسا ہی رہا ہے لیکن معتدل مزاج مذہبی قوت کو حالات کا ادراک کرنا چاہیے اور موجودہ صورتحال میں اپنی پالیسی ایک دم واضح اپنانی چاہیے کہ وہ شدت پسند قوتوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ 
آج میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح پاکستان کا افغانستان میں جنگ کرنا اس کے بقا کی ضمانت اور مجبوری تھی، آج بہت افسوس کے ساتھ کہ وزیرستان وغیرہ میں جنگ کرنا بھی اس کی مجبوری اور بقا کی ضمانت ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ویسے یہ &#8216;اطمینان&#8217; مجھے سمجھ نہیں آیا راشد بھائی۔ روس کا ماضی یہ تھا کہ وہ جہاں گیا واپس نہیں لوٹا اور کبھی بھی وہاں نہیں رکا بلکہ مزید آگے بڑھا۔ افغانستان میں روس کو جن لوگوں نے مدعو کیا، ان کا اثر و رسوخ پاکستان میں افغانستان سے بھی زیادہ تھا۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ جب سوویت اتحاد افغانستان میں داخل ہوا تھا تو یہاں ہمارے ہاں کے &#8216;سرخ&#8217; حلقے یہ کہتے تھے کہ &#8220;انقلاب درۂ خیبر پر دستک دے رہا ہے&#8221;۔ اس صورتحال میں پاکستان کی پوزیشن افغانستان سے بھی زیادہ نازک تھی۔ افغانستان پر قبضے کے بعد کچھ بعید نہ تھا کہ یہ حلقے وہی حرکت کرتے جو روسی قبضے سے قبل آخری افغان حکومت نے کی کہ انہوں نے دوستی کے معاہدے کے تحت روسی افواج کو افغانستان میں طلب کیا۔ سرحد میں اے این پی کا کتنا زور تھا اور سندھ میں جیے سندھ والوں کی نظر میں روس کی کیا اہمیت تھی؟ اس سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔<br />
جنگ افغانستان کے حوالے سے تین فریقین غلطیوں کے مرتکب ہوئے۔ امریکہ، پاکستانی حکومت اور مذہبی جماعتیں۔ سب سے پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ امریکہ نے افغانستان میں ویت نام کی شکست کا بدلہ تو لے لیا لیکن جنگ کے بعد ملبہ اٹھانے سے انکاری ہو گیا بلکہ وہ سارا ملبہ پاکستان کے اوپر ڈال دیا گیا جسے پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ دوسری غلطی یہاں کی جہادی قوتوں سے یہ ہوئی کہ انہوں نے افغانستان میں لڑنے والے جنگجوؤں کو ایک مرتبہ پھر زندگی کے عام دھارے میں شامل کرنے کے لیے کچھ نہ کیا۔ نتیجتاً ایک مرتبہ اسلحے کے ساتھ زندگی گزارنے کا مزہ چکھ لینے والے افراد کے لیے یہی ایک راہ بچی کہ وہ دوبارہ اسلحہ اٹھالیں۔ تعلیم کی کمی اور قیادت کے فقدان نے اس جلتی پر تیل چھڑکا۔ رہی سہی کسر لائن آف کنٹرول کے ساتھ باڑھ کی اجازت نے پوری کر دی یوں ان عناصر کو اپنی بھڑاس نکالنے کو کوئی میدان نہ ملا۔ سوچنے میں تو یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ آپ ایک طبقے کو مستقلاً جنگوں میں جتا دیں لیکن تاریخ میں کئی حکومتیں ایسی تھیں جنہوں نے جنگجوؤں اور وحشی قبائل کو ہمیشہ جنگوں میں ملوث رکھا بلکہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی &#8216;اسلامی&#8217; فتوحات محض اپنی حکومتوں کو بچانے کے لیے مرتب کی گئی حکمت عملی کے تحت ہوئیں، تاکہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی ممکنہ باغی عناصر کو کہیں اور لڑائیوں میں لگا دیا جائے۔ بعد میں ایسا ترک اور ترکمان قبیلوں کے ساتھ بھی کیا گیا کہ انہیں مستقل جنگوں میں مصروف رکھا جاتا۔ اس طرح تعلیم و تربیت نہ کرنے اور عام زندگی کی دوڑ میں دوبارہ شامل نہ کرنے کے بعد یہ ممکنہ دوسرا آپشن بھی ہم نے ضایع کیا۔<br />
تیسری غلطی، جو کہیں زیادہ بھیانک تھی، وہ مذہبی جماعتوں سے ہوئی، روسی شکست کے بعد ہماری ہاں کی مذہبی قوتیں اس زعم میں مبتلا ہوئیں کہ وہ اب دنیا کی ہر قوت کو پاش پاش کر سکتی ہیں اور دماغ کے اسی خناس نے القاعدہ، الفائدہ وغیرہ کو جنم دیا۔ لال قلعے پر سبز علم لہرانے جیسی بچکانہ باتیں اس بات کا مظہر تھیں کہ مذہبی جماعتیں کتنی visionary ہیں اور ان کی mental approach کیا ہے؟ اور مجھے پورا اندازہ ہے کہ اب جبکہ بہت زیادہ پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے، اس کے باوجود حالات کا درست ادراک کوئی مذہبی جماعت نہیں کر رہی۔ افسوس اس بات کا زیادہ ہے کہ یہ اپنے ہی اکابرین کے افکار کے خلاف جا رہے ہیں۔ مجھے الفائدہ مذہبی جماعتوں کا تو کوئی افسوس نہیں کہ ان کا وژن ہمیشہ ایک جیسا ہی رہا ہے لیکن معتدل مزاج مذہبی قوت کو حالات کا ادراک کرنا چاہیے اور موجودہ صورتحال میں اپنی پالیسی ایک دم واضح اپنانی چاہیے کہ وہ شدت پسند قوتوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔<br />
آج میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح پاکستان کا افغانستان میں جنگ کرنا اس کے بقا کی ضمانت اور مجبوری تھی، آج بہت افسوس کے ساتھ کہ وزیرستان وغیرہ میں جنگ کرنا بھی اس کی مجبوری اور بقا کی ضمانت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1420</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2009 20:58:31 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1420</guid>
		<description>ظفر صاحب آپ کی آمد کا شکریہ۔۔
فلموں؛ خاص کر بھارتی فلموں میں پروپیگنڈے کا جو عنصر موجود ہوتا ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔۔ یہ تو عام آدمی کے سوچنے کی اور فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ وہ کیا دیکھنا چاہتا ہے اور کیا نہیں۔ اہل محلہ کو اگر فلم پر اعتراض ہے تو وہ کیبل آپریٹر کو اپنی تشویش سے آگاہ کریں تاکہ ایسی فلمیں کیبل پر نا چلائی جائیں۔۔ دیکھنے والے ہوں گے تو پھر کیبل والے نے تو ان کی ڈیمانڈ پوری ہی کرنی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ظفر صاحب آپ کی آمد کا شکریہ۔۔<br />
فلموں؛ خاص کر بھارتی فلموں میں پروپیگنڈے کا جو عنصر موجود ہوتا ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔۔ یہ تو عام آدمی کے سوچنے کی اور فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ وہ کیا دیکھنا چاہتا ہے اور کیا نہیں۔ اہل محلہ کو اگر فلم پر اعتراض ہے تو وہ کیبل آپریٹر کو اپنی تشویش سے آگاہ کریں تاکہ ایسی فلمیں کیبل پر نا چلائی جائیں۔۔ دیکھنے والے ہوں گے تو پھر کیبل والے نے تو ان کی ڈیمانڈ پوری ہی کرنی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ظفر عباس</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1419</link>
		<dc:creator>ظفر عباس</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2009 19:19:08 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1419</guid>
		<description>I don&#039;t Know that your this e-mail address is correct or not but i try this. I am visiting Urdutech since one week and i like it. but i can not shere my feelings on this page due to new user. i get your e-mail from your blogs and then send you my felling about the Indian films that are frequently played on cable in Karachi, The cable Operators are &quot;BAY HES&quot;, because in this situation they commonly played those Indian movies in which they strongly shown the Muslims as a Terrorist (Dhashat Gard). I thinks that they are Muslims but they can not feels the Love of nation and they are not a pure Muslim (means they did not know the resposblity of a Muslim to there faith). Aghar Urdu may likhnay ka Tarika aata tu Dil ki baat aasani say kah pata. Please upnay Urdutech may maray in jazbat ko apni zaban man es tarha likhaen kah un ko sharm aay ur wo sachchay Pakistani ban jayan. I am waiting your reply, I read all about you in your blog. THANKS</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>I don&#8217;t Know that your this e-mail address is correct or not but i try this. I am visiting Urdutech since one week and i like it. but i can not shere my feelings on this page due to new user. i get your e-mail from your blogs and then send you my felling about the Indian films that are frequently played on cable in Karachi, The cable Operators are &#8220;BAY HES&#8221;, because in this situation they commonly played those Indian movies in which they strongly shown the Muslims as a Terrorist (Dhashat Gard). I thinks that they are Muslims but they can not feels the Love of nation and they are not a pure Muslim (means they did not know the resposblity of a Muslim to there faith). Aghar Urdu may likhnay ka Tarika aata tu Dil ki baat aasani say kah pata. Please upnay Urdutech may maray in jazbat ko apni zaban man es tarha likhaen kah un ko sharm aay ur wo sachchay Pakistani ban jayan. I am waiting your reply, I read all about you in your blog. THANKS</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1418</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2009 16:50:19 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1418</guid>
		<description>ابوشامل صاحب تحریر کی تیکنیک کی  پسند کا شکریہ (:۔۔ 
بنیادی طور مقصد ہی ان غلطیوں کی طرف نشاندہی کرنا ہے جو افغان جنگ کے فورا بعد کی گئیں افغان جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ تھی؟ اس سے روس کا ماضی دیکھتے ہوئے انکار ممکن نہیں۔  لیکن روس کی شکست کے بعد  افغانستان کی خانہ جنگی میں بری طرح ملوث ہونا یہاں تک کہ ریاست تو چھوڑ سیاسی جماعتوں کی سطح تک ہماری فیورٹ جنگجو ٹیمیں بن گئیں۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک نے جو رویہ اپنایا اس کی قیمت آج دونوں ملک ادا کررہے ہیں۔ اس کے برعکس براہ راست ملوث ہونے کے بجائے چند دوسرے ممالک نے جو حکمت عملی اپنائی اس کی وجہ سے کم از کم وہ براہ راست نقصان سے محفوظ ہیں اور آج ہم مانیں یا نا مانیں افغان عوام انہیں ہی اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ اس پر ستم دیکھیے کہ ابھی سوویت یونین کے انخلاء کے بعد معاملات تتر بتر ہیں‌ اور ہماری دیواریں &quot;روس نے بازی ہاری ہے اب امریکہ کی باری ہے&quot; جیسے نعروں سے رنگ دی گئیں۔ اور جہاد یا جنگ  کا دائرہ سمیٹنے اور جنگجووں کو معمولات پر واپس بحال کرنے  کے بجائے پھیلانے کی باتیں کی جانے لگیں یہاں تک کے عوام کو عظیم &quot;اسلامی سلطنت&quot;‌ کا خواب دکھایا گیا اور ان دنوں ہمارے مذہبی، فوجی اور سیاسی رہنماؤں کی اڑان دیکھیے کہ کوئی دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لگانے کی باتیں‌کررہا تھا اور کوئی وسط ایشیاء تک پھیلی اسلامی سلطنت کے نقشے ترتیب دینے میں لگا ہوا تھا۔۔ اور یہ اُس قوم کی باتیں تھیں جس کی ستر فیصد عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔۔ اس جنون کے نتائج کیا کچھ اور ممکن تھے؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ابوشامل صاحب تحریر کی تیکنیک کی  پسند کا شکریہ (:۔۔<br />
بنیادی طور مقصد ہی ان غلطیوں کی طرف نشاندہی کرنا ہے جو افغان جنگ کے فورا بعد کی گئیں افغان جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ تھی؟ اس سے روس کا ماضی دیکھتے ہوئے انکار ممکن نہیں۔  لیکن روس کی شکست کے بعد  افغانستان کی خانہ جنگی میں بری طرح ملوث ہونا یہاں تک کہ ریاست تو چھوڑ سیاسی جماعتوں کی سطح تک ہماری فیورٹ جنگجو ٹیمیں بن گئیں۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک نے جو رویہ اپنایا اس کی قیمت آج دونوں ملک ادا کررہے ہیں۔ اس کے برعکس براہ راست ملوث ہونے کے بجائے چند دوسرے ممالک نے جو حکمت عملی اپنائی اس کی وجہ سے کم از کم وہ براہ راست نقصان سے محفوظ ہیں اور آج ہم مانیں یا نا مانیں افغان عوام انہیں ہی اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ اس پر ستم دیکھیے کہ ابھی سوویت یونین کے انخلاء کے بعد معاملات تتر بتر ہیں‌ اور ہماری دیواریں &#8220;روس نے بازی ہاری ہے اب امریکہ کی باری ہے&#8221; جیسے نعروں سے رنگ دی گئیں۔ اور جہاد یا جنگ  کا دائرہ سمیٹنے اور جنگجووں کو معمولات پر واپس بحال کرنے  کے بجائے پھیلانے کی باتیں کی جانے لگیں یہاں تک کے عوام کو عظیم &#8220;اسلامی سلطنت&#8221;‌ کا خواب دکھایا گیا اور ان دنوں ہمارے مذہبی، فوجی اور سیاسی رہنماؤں کی اڑان دیکھیے کہ کوئی دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لگانے کی باتیں‌کررہا تھا اور کوئی وسط ایشیاء تک پھیلی اسلامی سلطنت کے نقشے ترتیب دینے میں لگا ہوا تھا۔۔ اور یہ اُس قوم کی باتیں تھیں جس کی ستر فیصد عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔۔ اس جنون کے نتائج کیا کچھ اور ممکن تھے؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=505&#038;cpage=1#comment-1417</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2009 10:54:34 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=505#comment-1417</guid>
		<description>ہمارے بہت سارے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے افغانستان میں بے وجہ کی مداخلت کی اور روس کو شکست دینے کے لیے ہمیں افغان سرزمین پر امریکہ کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے تھی۔ ان افراد کا استدلال اس حد تک تو درست ہے کہ بہادری کا تقاضا ہے کہ دوسروں کا سہارا نہ لیا جائے لیکن میرے خیال میں روس کی اس حکمت عملی اور توسیع پسندانہ عزائم کو میرے مہربان دوست بھول جاتے ہیں جو اس نے افغانستان پر قبضہ مکمل ہونے کے بعد کے لیے اپنائی تھی۔ 
بہرحال افغانستان میں جنگ لڑنے کا ہمیں نقصان اس لیے زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ اس کا فائدہ ہم درست انداز میں سمیٹ نہیں سکے۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ اہم جنگ لڑنے والے افراد مخلص نہ تھے۔ امریکہ بھی ملبہ چھوڑ کر بھاگ گیا اور ہمارے ہاں کے ڈالرز کے لالچی بھی افغانستان کو ویسا ہی چھوڑ کر اپنی اپنی دنیا میں جا بسے۔ اور وہ جنگ جو خطے کا رخ متعین کر سکتی تھی ایک ایسا بھیانک خواب بن گئی ہے. 
میرے خیال میں ہمیں اس حکمت عملی اور مفاد پرستانہ رویے کی ضرور مذمت کرنی چاہیے لیکن افغانستان میں روسی مداخلت اور اس کے مستقبل کے توسیع پسندانہ عزائم کو نہیں بھولنا چاہیے اور اس بات کو بھی نہیں کہ افغان سرزمین پر پاکستان کا جنگ لڑنا ضروری تھا۔ اگر امریکہ ہمارا ساتھ نہ بھی دیتا تو پاکستان کو اپنی بقا کے لیے یہ جنگ لڑنا ضروری تھی۔ 
نقطہ نظر سے اس بنیادی اختلاف کے باوجود تحریر آپ کا روایتی شاندار انداز چھایا ہوا ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ہمارے بہت سارے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے افغانستان میں بے وجہ کی مداخلت کی اور روس کو شکست دینے کے لیے ہمیں افغان سرزمین پر امریکہ کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے تھی۔ ان افراد کا استدلال اس حد تک تو درست ہے کہ بہادری کا تقاضا ہے کہ دوسروں کا سہارا نہ لیا جائے لیکن میرے خیال میں روس کی اس حکمت عملی اور توسیع پسندانہ عزائم کو میرے مہربان دوست بھول جاتے ہیں جو اس نے افغانستان پر قبضہ مکمل ہونے کے بعد کے لیے اپنائی تھی۔<br />
بہرحال افغانستان میں جنگ لڑنے کا ہمیں نقصان اس لیے زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ اس کا فائدہ ہم درست انداز میں سمیٹ نہیں سکے۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ اہم جنگ لڑنے والے افراد مخلص نہ تھے۔ امریکہ بھی ملبہ چھوڑ کر بھاگ گیا اور ہمارے ہاں کے ڈالرز کے لالچی بھی افغانستان کو ویسا ہی چھوڑ کر اپنی اپنی دنیا میں جا بسے۔ اور وہ جنگ جو خطے کا رخ متعین کر سکتی تھی ایک ایسا بھیانک خواب بن گئی ہے.<br />
میرے خیال میں ہمیں اس حکمت عملی اور مفاد پرستانہ رویے کی ضرور مذمت کرنی چاہیے لیکن افغانستان میں روسی مداخلت اور اس کے مستقبل کے توسیع پسندانہ عزائم کو نہیں بھولنا چاہیے اور اس بات کو بھی نہیں کہ افغان سرزمین پر پاکستان کا جنگ لڑنا ضروری تھا۔ اگر امریکہ ہمارا ساتھ نہ بھی دیتا تو پاکستان کو اپنی بقا کے لیے یہ جنگ لڑنا ضروری تھی۔<br />
نقطہ نظر سے اس بنیادی اختلاف کے باوجود تحریر آپ کا روایتی شاندار انداز چھایا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
