<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: سافٹ ویر پائریسی۔ ایک مکروہ فعل ؟</title>
	<atom:link href="http://www.urdublogging.com/?feed=rss2&#038;p=347" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdublogging.com/?p=347</link>
	<description>راشد کامران</description>
	<lastBuildDate>Thu, 02 Sep 2010 07:12:59 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
	<item>
		<title>By: محمد فیصل حسنین</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1725</link>
		<dc:creator>محمد فیصل حسنین</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 21 Feb 2010 19:09:52 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1725</guid>
		<description>زبردست، بہت خوب، &quot;ابو شامل&quot; صاحب کیا کہنے ہیں آپ کے۔ میں خود ایک سافٹ ویئر ڈویلپر ہوں۔ مریض کا درد میرص ہی جان سکتا ہے۔ میرے خیال مِں سافٹ وہیر پائریسی کے مسئلے پر اختلاف کی بنیادی وجہ سافٹ ویر کے بارے مِں لاعلمی ہے۔ اگر لوگوں کا اندازا ہو جائے کہ ایک اچھا سافٹ ویئر بنانے میں کتنی محنت درکار ہے تو لوگ خود ہی اس کو &quot;چوری&quot; تسلیم کرنے لگ جائیں گے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>زبردست، بہت خوب، &#8220;ابو شامل&#8221; صاحب کیا کہنے ہیں آپ کے۔ میں خود ایک سافٹ ویئر ڈویلپر ہوں۔ مریض کا درد میرص ہی جان سکتا ہے۔ میرے خیال مِں سافٹ وہیر پائریسی کے مسئلے پر اختلاف کی بنیادی وجہ سافٹ ویر کے بارے مِں لاعلمی ہے۔ اگر لوگوں کا اندازا ہو جائے کہ ایک اچھا سافٹ ویئر بنانے میں کتنی محنت درکار ہے تو لوگ خود ہی اس کو &#8220;چوری&#8221; تسلیم کرنے لگ جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: رند کے رند رہے۔۔۔ &#171; Faisaliat- فیصلیات</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1260</link>
		<dc:creator>رند کے رند رہے۔۔۔ &#171; Faisaliat- فیصلیات</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 12 Sep 2009 21:38:15 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1260</guid>
		<description>[...] یہ بہت سوں کیلئے اچھی خبر یوں بھی ہے کہ پاکستان میں تو سوفٹوئر کی چوری کوئی اتنا بڑا جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اُنکے دل سے [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] یہ بہت سوں کیلئے اچھی خبر یوں بھی ہے کہ پاکستان میں تو سوفٹوئر کی چوری کوئی اتنا بڑا جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اُنکے دل سے [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1120</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 06 Aug 2009 05:36:04 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1120</guid>
		<description>میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہوں کہ چوری کے لیے بھی دلیل؟؟ شاید اسی لیے کہا گیا تھا &quot;چوری اور سینہ زوری&quot;۔ 
کسی بھی رو سے آپ دیکھ لیں سافٹ ویئر پائریسی دراصل چوری ہی کی شکل ہے۔ اگر کوئی شخص سافٹ ویئر مہنگا بیچتا ہے، تو اس کی وجوہات بھی تو دیکھئے حضور! کہ اس کے 90 فیصد صارف ایسے ہیں جن سے اسے ٹکے کا فائدہ نہیں پہنچ رہا تو لازماً سافٹ ویئر بنانے والا سب کے پیسے اُن 10 فیصد ہی سے حاصل کرے گا نا جو اس سے مال خریدتے ہیں۔ میرا نظریہ ہے کہ پائریسی جتنی کم ہوگی سافٹ ویئر کی قیمتیں بھی اتنی ہی گریں گی۔ 
اس بحث سے قطع نظر اوپن سورس اتنا زبردست متبادل ہے کہ آپ کے پاس اس چوری کا کوئی جواز ہی نہیں رہ جاتا۔ بتائیے کون سا ایسا عام استعمال کا سافٹ ویئر ہے جسے چوری کرنا &quot;اشد ضروری&quot; ہو کیونکہ اس کا اوپن سورس متبادل موجود نہیں۔ پھر پاکستان میں لینکس کی ترویج کے لیے جو متعدد افراد بلکہ محمد علی مکی جیسی شخصیات، جو ذات میں ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں، موجود ہیں جنہوں نے اوپن سورس سافٹ ویئرز کی ترویج کو اپنا مقصد بنا لیا ہے تو اس صورتحال میں بدستور چوری سے چپکے رہنا، بہت افسوسناک بات ہے۔ مجھے یاد ہے عرصہ قبل مکی صاحب نے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان بھر میں لینکس سافٹ ویئرز اور ڈسٹروز کی ترسیل کا کام بھی کیا تھا، اس میں انہیں بڑے پیمانے پر خسارہ بھی ہوا لیکن عرصے تک وہ منصوبہ چلتا رہا پھر ان کی بیرون ملک روانگی کے باعث رک گیا۔ ایسے مخلص لوگ آپ کو &quot;چور برادری&quot; میں ملیں گے؟ 
مجھے اس بات کا بھی معلوم ہے کہ یہ چوری اندر تک سرایت کر چکی ہے لیکن کم از کم اس چوری کو چوری تو سمجھیں نا؟ جو زائد قیمت پر اپنا مال بیچ رہا ہے وہ اپنے عمل کا خود جواب دہ ہے۔ آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ قیمت زیادہ ہونے کے باعث اس کا مال چوری کر لیں۔ 
اور ہاں! میں بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں چوری کی ونڈوز استعمال کرتا ہوں لیکن ساتھ ساتھ لینکس سے علیک سلیک بھی چلتی رہتی ہے اور اسے سیکھ رہا ہوں۔ کوشش ہوگی کہ ایک وقت ایسا آئے جب میں مستقلاً لینکس پر منتقل ہو جاؤں یا جینوئن ونڈوز اور سافٹ ویئرز خریدوں۔ لیکن آخر الذکر بہت مہنگا آپشن ہے :)</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہوں کہ چوری کے لیے بھی دلیل؟؟ شاید اسی لیے کہا گیا تھا &#8220;چوری اور سینہ زوری&#8221;۔<br />
کسی بھی رو سے آپ دیکھ لیں سافٹ ویئر پائریسی دراصل چوری ہی کی شکل ہے۔ اگر کوئی شخص سافٹ ویئر مہنگا بیچتا ہے، تو اس کی وجوہات بھی تو دیکھئے حضور! کہ اس کے 90 فیصد صارف ایسے ہیں جن سے اسے ٹکے کا فائدہ نہیں پہنچ رہا تو لازماً سافٹ ویئر بنانے والا سب کے پیسے اُن 10 فیصد ہی سے حاصل کرے گا نا جو اس سے مال خریدتے ہیں۔ میرا نظریہ ہے کہ پائریسی جتنی کم ہوگی سافٹ ویئر کی قیمتیں بھی اتنی ہی گریں گی۔<br />
اس بحث سے قطع نظر اوپن سورس اتنا زبردست متبادل ہے کہ آپ کے پاس اس چوری کا کوئی جواز ہی نہیں رہ جاتا۔ بتائیے کون سا ایسا عام استعمال کا سافٹ ویئر ہے جسے چوری کرنا &#8220;اشد ضروری&#8221; ہو کیونکہ اس کا اوپن سورس متبادل موجود نہیں۔ پھر پاکستان میں لینکس کی ترویج کے لیے جو متعدد افراد بلکہ محمد علی مکی جیسی شخصیات، جو ذات میں ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں، موجود ہیں جنہوں نے اوپن سورس سافٹ ویئرز کی ترویج کو اپنا مقصد بنا لیا ہے تو اس صورتحال میں بدستور چوری سے چپکے رہنا، بہت افسوسناک بات ہے۔ مجھے یاد ہے عرصہ قبل مکی صاحب نے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان بھر میں لینکس سافٹ ویئرز اور ڈسٹروز کی ترسیل کا کام بھی کیا تھا، اس میں انہیں بڑے پیمانے پر خسارہ بھی ہوا لیکن عرصے تک وہ منصوبہ چلتا رہا پھر ان کی بیرون ملک روانگی کے باعث رک گیا۔ ایسے مخلص لوگ آپ کو &#8220;چور برادری&#8221; میں ملیں گے؟<br />
مجھے اس بات کا بھی معلوم ہے کہ یہ چوری اندر تک سرایت کر چکی ہے لیکن کم از کم اس چوری کو چوری تو سمجھیں نا؟ جو زائد قیمت پر اپنا مال بیچ رہا ہے وہ اپنے عمل کا خود جواب دہ ہے۔ آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ قیمت زیادہ ہونے کے باعث اس کا مال چوری کر لیں۔<br />
اور ہاں! میں بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں چوری کی ونڈوز استعمال کرتا ہوں لیکن ساتھ ساتھ لینکس سے علیک سلیک بھی چلتی رہتی ہے اور اسے سیکھ رہا ہوں۔ کوشش ہوگی کہ ایک وقت ایسا آئے جب میں مستقلاً لینکس پر منتقل ہو جاؤں یا جینوئن ونڈوز اور سافٹ ویئرز خریدوں۔ لیکن آخر الذکر بہت مہنگا آپشن ہے <img src='http://www.urdublogging.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1119</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2009 19:28:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1119</guid>
		<description>نعمان صاحب۔ میں نے مقدمہ اسی طرح‌پیش کیا کہ کسی طرح سافٹ‌ پائیریسی کو چوری کا مثل قرار دے دوں۔ کیونکہ اگر اس پر مناسب دلائل پیش کردیے جائیں اور یہ طے ہوجائے کہ سافٹ ویر پائریسی دراصل چوری ہی ہے تو پھر اس سے آگے کا تمام حساب کتاب ہم لوگوں کے علم میں ہے۔ 

فیصل صاحب ۔۔ بارہا میں یہ باور کرانے کی کوشش کرچکا ہوں کہ جو کتاب ہمارے یہاں نقل کی جاتی ہے وہ تعلیم کے لیے نہیں بلکہ تجارتی مقاصد کے لیے نقل کی جاتی ہے جو سراسر غلط اور بددیانتی ہے۔ اس کے لیے نہ تو پبلشر اور نہ ہی قانونی ملکیت رکھنے والوں سے اجازت طلب کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں منافع کا حصہ دیا جاتا ہے بلکہ ان کے تو علم میں بھی نہیں ہوگا کہ اسطرح کچھ ہورہا ہے۔

عمر صاحب۔۔ سافٹ ویر بھی اس ماڈل پر واقعی دستیاب ہیں۔ مثلا لائبریریوں میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی سہولیات بھی فراہم کی جاتیں ہیں‌جنہیں آپ استعمال کریں اور گھر کی راہ لیں۔ اور وہ سافٹ ویر باقاعدہ لائسنس ہوتے ہیں۔ یاسر صاحب‌ نے ترقی یافتہ ملک کا نکتہ اٹھایا ہے جس کی طرف میں دوسرے پیرا میں آرہا ہوں۔

یاسر صاحب‌ آپ نے اچھا کیا کہ یہ نکتہ اٹھایا کہ ہم ترقی یافتہ معاشروں کی بات کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشرے یہاں تک کیسے پہنچے؟ اگر ہم پائیریسی پر قدغن لگاتے ہیں تو اس سے لائبریریوں اور اصلی کتابوں‌کی طلب بڑھے گی۔ تو پیزا ہٹ‌، کے ایف سی کی طرح‌بارنس اینڈ نوبل اور بارڈرز بکس بھی پاکستان کا رخ‌کریں‌گے اور ساتھ ساتھ وہ کلچر لے کر آئیں گے جس کی طرف میرا اشارہ ہے۔ مسلسل اگر ہم سہولت کے نام پر پائریسی کو فروغ دیں‌گے تو نہ ہمارے کتب خانے آباد ہونگے اور نہ کتاب کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔ باقی یہ کہ آپ کی ملکیت کی چیز سے آپ جائز جتنا منافع کمائیں یہ آپ کا حق ہے اور مذہبی و معاشرتی طور اس پر کچھ روک نہیں‌ لگائی جاسکتی کہ ایک مصنف دس لاکھ سے زیادہ منافع نہیں‌ کماسکتا جب کہ کتاب کی قیمیت مناسب ہو اور صرف طلب میں‌اضافے کے باعث منافع ہو رہا ہو۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان صاحب۔ میں نے مقدمہ اسی طرح‌پیش کیا کہ کسی طرح سافٹ‌ پائیریسی کو چوری کا مثل قرار دے دوں۔ کیونکہ اگر اس پر مناسب دلائل پیش کردیے جائیں اور یہ طے ہوجائے کہ سافٹ ویر پائریسی دراصل چوری ہی ہے تو پھر اس سے آگے کا تمام حساب کتاب ہم لوگوں کے علم میں ہے۔ </p>
<p>فیصل صاحب ۔۔ بارہا میں یہ باور کرانے کی کوشش کرچکا ہوں کہ جو کتاب ہمارے یہاں نقل کی جاتی ہے وہ تعلیم کے لیے نہیں بلکہ تجارتی مقاصد کے لیے نقل کی جاتی ہے جو سراسر غلط اور بددیانتی ہے۔ اس کے لیے نہ تو پبلشر اور نہ ہی قانونی ملکیت رکھنے والوں سے اجازت طلب کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں منافع کا حصہ دیا جاتا ہے بلکہ ان کے تو علم میں بھی نہیں ہوگا کہ اسطرح کچھ ہورہا ہے۔</p>
<p>عمر صاحب۔۔ سافٹ ویر بھی اس ماڈل پر واقعی دستیاب ہیں۔ مثلا لائبریریوں میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی سہولیات بھی فراہم کی جاتیں ہیں‌جنہیں آپ استعمال کریں اور گھر کی راہ لیں۔ اور وہ سافٹ ویر باقاعدہ لائسنس ہوتے ہیں۔ یاسر صاحب‌ نے ترقی یافتہ ملک کا نکتہ اٹھایا ہے جس کی طرف میں دوسرے پیرا میں آرہا ہوں۔</p>
<p>یاسر صاحب‌ آپ نے اچھا کیا کہ یہ نکتہ اٹھایا کہ ہم ترقی یافتہ معاشروں کی بات کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشرے یہاں تک کیسے پہنچے؟ اگر ہم پائیریسی پر قدغن لگاتے ہیں تو اس سے لائبریریوں اور اصلی کتابوں‌کی طلب بڑھے گی۔ تو پیزا ہٹ‌، کے ایف سی کی طرح‌بارنس اینڈ نوبل اور بارڈرز بکس بھی پاکستان کا رخ‌کریں‌گے اور ساتھ ساتھ وہ کلچر لے کر آئیں گے جس کی طرف میرا اشارہ ہے۔ مسلسل اگر ہم سہولت کے نام پر پائریسی کو فروغ دیں‌گے تو نہ ہمارے کتب خانے آباد ہونگے اور نہ کتاب کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔ باقی یہ کہ آپ کی ملکیت کی چیز سے آپ جائز جتنا منافع کمائیں یہ آپ کا حق ہے اور مذہبی و معاشرتی طور اس پر کچھ روک نہیں‌ لگائی جاسکتی کہ ایک مصنف دس لاکھ سے زیادہ منافع نہیں‌ کماسکتا جب کہ کتاب کی قیمیت مناسب ہو اور صرف طلب میں‌اضافے کے باعث منافع ہو رہا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: عمر احمد بنگش</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1118</link>
		<dc:creator>عمر احمد بنگش</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2009 18:16:10 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1118</guid>
		<description>بات کافی پھیل گئی ہے۔ یاسر عمران صاحب کے بلاگ پر جب پہلی بار یہ بحث‌ہوٕئی تھی تو کتابوں‌کے بارے جتنی بھی بحث‌ہوٕئی، اس سے جو بات ثابت ہوئی، یا کم از کم میں‌سمجھا تھا وہ یہ تھی کہ کتب خانوں‌سے جب آپ کتابیں‌ ادھار لے کر پڑھتے ہیں‌اور پھر واپس کر دیتے ہیں‌تو یہ جائز ہے۔ اس سے میرے ذہن میں‌جو بات‌آئی تو وہ یہی تھی کہ سرٹیفائیڈ‌چوری والی کہ قانون کچھ ایسے بنایا گیا ہے کہ ذاتی استعمال کے لی کتب خانے ایجاد ہو گئے،‌آپ کتب خانوں‌کو کچھ قیمت تو ادا نہیں‌کرتے اور پھر کتب خانوں‌کو اس طور استعمال کرنے کی اجازت بھی ہے۔ 
اسی طرز پر اگر سافٹ‌وئیر کی بات کی جائے تو بلاشبہ کوئی شخص‌اس بات سے انکا ر نہیں‌کرے گا کہ چوری جیسے بھی ہو، غلط ہے۔ لیکن کیا ایسا نہیں‌ہے کہ کتاب کی طرح‌سافٹ‌وئیر کا بھی زاتی مقاصد کے لیے استعمال جائز قرار دینا چاہیے۔ ناول پڑھ کر آپ کتب خانے میں‌رکھ دیجیے اور دوسرے دن پھرآ جائیے، میں‌سافٹ‌وئیر بھی تو ایسے ہی استعمال کرتا ہوں‌۔ روز استعمال کر کے رکھ دیتا ہوں‌اور دوسرے دن پھر تیار۔ 
اب جبکہ آپ بات اوپن سورس کی کرتے ہیں تو جناب، مجھے یہ تو بتائیں‌کہ اس نشے کا کیا کروں‌جس کی رو سے میں‌پائریٹیڈ‌سافٹ وئیر استعمال کرنے کا عادی بن چکا ہوں، کوئی &quot;صداقت کلینک&quot;ہے جو میری مدد کر سکے اس طور؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بات کافی پھیل گئی ہے۔ یاسر عمران صاحب کے بلاگ پر جب پہلی بار یہ بحث‌ہوٕئی تھی تو کتابوں‌کے بارے جتنی بھی بحث‌ہوٕئی، اس سے جو بات ثابت ہوئی، یا کم از کم میں‌سمجھا تھا وہ یہ تھی کہ کتب خانوں‌سے جب آپ کتابیں‌ ادھار لے کر پڑھتے ہیں‌اور پھر واپس کر دیتے ہیں‌تو یہ جائز ہے۔ اس سے میرے ذہن میں‌جو بات‌آئی تو وہ یہی تھی کہ سرٹیفائیڈ‌چوری والی کہ قانون کچھ ایسے بنایا گیا ہے کہ ذاتی استعمال کے لی کتب خانے ایجاد ہو گئے،‌آپ کتب خانوں‌کو کچھ قیمت تو ادا نہیں‌کرتے اور پھر کتب خانوں‌کو اس طور استعمال کرنے کی اجازت بھی ہے۔<br />
اسی طرز پر اگر سافٹ‌وئیر کی بات کی جائے تو بلاشبہ کوئی شخص‌اس بات سے انکا ر نہیں‌کرے گا کہ چوری جیسے بھی ہو، غلط ہے۔ لیکن کیا ایسا نہیں‌ہے کہ کتاب کی طرح‌سافٹ‌وئیر کا بھی زاتی مقاصد کے لیے استعمال جائز قرار دینا چاہیے۔ ناول پڑھ کر آپ کتب خانے میں‌رکھ دیجیے اور دوسرے دن پھرآ جائیے، میں‌سافٹ‌وئیر بھی تو ایسے ہی استعمال کرتا ہوں‌۔ روز استعمال کر کے رکھ دیتا ہوں‌اور دوسرے دن پھر تیار۔<br />
اب جبکہ آپ بات اوپن سورس کی کرتے ہیں تو جناب، مجھے یہ تو بتائیں‌کہ اس نشے کا کیا کروں‌جس کی رو سے میں‌پائریٹیڈ‌سافٹ وئیر استعمال کرنے کا عادی بن چکا ہوں، کوئی &#8220;صداقت کلینک&#8221;ہے جو میری مدد کر سکے اس طور؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: فیصل</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1117</link>
		<dc:creator>فیصل</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2009 18:04:47 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1117</guid>
		<description>جی غلط بات تو غلط ہی ہے۔ آپکو قیمت پر اعتراض ہے تو نہ خریدیں، بلکہ چوری کر لیں‌لیکن اسکا جواز کوئی نہ ڈھونڈیں۔
کتاب کی چوری تو اور بھی بری کہ اسطرح تو لوگ لکھنا ہی چھوڑ دیں۔ محدود مقدار میں طلبا کے استعمال کرنے کو کاپی کی اجازت تو ترقی یافتہ ممالک بھی دیتے ہیں بلکہ کورس ماڈیول میں مختلف کتابوں کے اہم حصے کی کاپیاں موجود ہوتی ہیں لیکن یہ سب اجازت لینے کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس میں اور ہمارے ہاں کے چوری شدہ سستے کاغذ پر چھپے پیپر بیک ایڈڈیشنز میں فرق ہوتا ہے۔
کم از کم میری کتاب تو کوئی چوری کرے تو مجھے بہت برا لگے گا، ہاں شائد یار لوگوں‌کا ظرف مجھ سے بہت وسیع ہو گا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جی غلط بات تو غلط ہی ہے۔ آپکو قیمت پر اعتراض ہے تو نہ خریدیں، بلکہ چوری کر لیں‌لیکن اسکا جواز کوئی نہ ڈھونڈیں۔<br />
کتاب کی چوری تو اور بھی بری کہ اسطرح تو لوگ لکھنا ہی چھوڑ دیں۔ محدود مقدار میں طلبا کے استعمال کرنے کو کاپی کی اجازت تو ترقی یافتہ ممالک بھی دیتے ہیں بلکہ کورس ماڈیول میں مختلف کتابوں کے اہم حصے کی کاپیاں موجود ہوتی ہیں لیکن یہ سب اجازت لینے کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس میں اور ہمارے ہاں کے چوری شدہ سستے کاغذ پر چھپے پیپر بیک ایڈڈیشنز میں فرق ہوتا ہے۔<br />
کم از کم میری کتاب تو کوئی چوری کرے تو مجھے بہت برا لگے گا، ہاں شائد یار لوگوں‌کا ظرف مجھ سے بہت وسیع ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1114</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2009 10:55:04 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1114</guid>
		<description>میرے خیال میں سوال یہ تھا کہ اسلام میں سوفٹوءر پائریسی حلال ہے کہ حرام۔ اسلام میں چوری جرم ہے، مگر اسلامی معاشی قوانین کے تحت ایسی شرائط کے ساتھ سوفتوئر بھی نہیں بیچے جاسکتے۔ تو اگر اسلامی عدالتیں اس بات کا فیصلہ کرتیں تو یقینا ان سوفٹوئر کی فروخت پر پابندی لگ جاتی۔ اور ان اداروں کو یورپی یونین کی طرح اسلامی عدالت میں اپنا کیس پیش کرنا پڑتا اور صرف اسلامی نظام عدل کے تحت آنے والے ریجن کے لئے الگ قیمتوں یا شرائط پر سوفٹوئر فروخت کرنا پڑتا۔ 

لحاظہ سوفٹوئر پائریسی جرم ہی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میرے خیال میں سوال یہ تھا کہ اسلام میں سوفٹوءر پائریسی حلال ہے کہ حرام۔ اسلام میں چوری جرم ہے، مگر اسلامی معاشی قوانین کے تحت ایسی شرائط کے ساتھ سوفتوئر بھی نہیں بیچے جاسکتے۔ تو اگر اسلامی عدالتیں اس بات کا فیصلہ کرتیں تو یقینا ان سوفٹوئر کی فروخت پر پابندی لگ جاتی۔ اور ان اداروں کو یورپی یونین کی طرح اسلامی عدالت میں اپنا کیس پیش کرنا پڑتا اور صرف اسلامی نظام عدل کے تحت آنے والے ریجن کے لئے الگ قیمتوں یا شرائط پر سوفٹوئر فروخت کرنا پڑتا۔ </p>
<p>لحاظہ سوفٹوئر پائریسی جرم ہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: یاسر عمران مرزا</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1112</link>
		<dc:creator>یاسر عمران مرزا</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2009 09:46:41 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1112</guid>
		<description>میرے ایک دو فقروں میں لفظی غلطیاں ہیں ، برائے مہربانی درست کر دیجیے گا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میرے ایک دو فقروں میں لفظی غلطیاں ہیں ، برائے مہربانی درست کر دیجیے گا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: یاسرعمران مرزا</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1111</link>
		<dc:creator>یاسرعمران مرزا</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2009 09:45:18 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1111</guid>
		<description>وہاں واقعی پائریسی تباہ کن ہو گی، یعنی کتب کی پائریسی بھی غلط ہو گی، لیکن اگر صورت حال اس کے برعکس ہو
یعنی مصنف، اپنی کتاب سے لاکھوں کما چکا ہو، یا وہ ادارہ جس نے کتاب چھاپی ہو وہ بھی بہت منافع کما چکا ہو، مگر طلبا اس مالی حالت میں نہ ہوں کہ مہنگی کتب خرید سکیں، پھر کیا کہیں گے آپ
آپ کی اکژباتوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آپ ایک ترقی یافتہ ملک میں رہائش پذیر ہیں ، مثال کے طور پر پاکستان میں لائبریریوں کی وہ صورت حال نہیں جو امریکہ میں ہے، اگر ایک یونیورسٹی کے 70 فیصد طلبا جو کتاب افورڈ نہ کر سکتے ہوں اور شہر کی واحد لائبریری میں روز جمع ہو جائیں تو ؟
پڑھے گا کون اور سمجھے گا کون؟
افضل صاحب بھی امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اس لیے وہ بھی وہاں کے حساب سے بات کرتے ہیں، آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ پاکستانی ماحول کے مطابق بات کریں، اگر میری بات  بری لگے تو پیشگی معذرت
شکریہ</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>وہاں واقعی پائریسی تباہ کن ہو گی، یعنی کتب کی پائریسی بھی غلط ہو گی، لیکن اگر صورت حال اس کے برعکس ہو<br />
یعنی مصنف، اپنی کتاب سے لاکھوں کما چکا ہو، یا وہ ادارہ جس نے کتاب چھاپی ہو وہ بھی بہت منافع کما چکا ہو، مگر طلبا اس مالی حالت میں نہ ہوں کہ مہنگی کتب خرید سکیں، پھر کیا کہیں گے آپ<br />
آپ کی اکژباتوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آپ ایک ترقی یافتہ ملک میں رہائش پذیر ہیں ، مثال کے طور پر پاکستان میں لائبریریوں کی وہ صورت حال نہیں جو امریکہ میں ہے، اگر ایک یونیورسٹی کے 70 فیصد طلبا جو کتاب افورڈ نہ کر سکتے ہوں اور شہر کی واحد لائبریری میں روز جمع ہو جائیں تو ؟<br />
پڑھے گا کون اور سمجھے گا کون؟<br />
افضل صاحب بھی امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اس لیے وہ بھی وہاں کے حساب سے بات کرتے ہیں، آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ پاکستانی ماحول کے مطابق بات کریں، اگر میری بات  بری لگے تو پیشگی معذرت<br />
شکریہ</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdublogging.com/?p=347&#038;cpage=1#comment-1110</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2009 07:34:18 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdublogging.com/?p=347#comment-1110</guid>
		<description>افضل صاحب آپ کے تبصرے پر تو جواب اجمل صاحب نے اپنی تازہ پوسٹ میں دیا ہے۔ جھے خوشی ہے کہ آپ ہم خیال ہیں۔

خرم صاحب آپ کی آمد کا شکریہ۔ میں بالکل یہی بات بار بار زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ سافٹ ویر کی چوری کا جواز ہی کوئی نہیں کہ متبادل فری سافٹ ویر 
باآسانی دستیاب ہے اور میعاری بھی ہے۔

جاوید صاحب آپ کے تبصرے کا شکریہ۔ دیکھیے پاکستان کے معروضی حالات کے حوالے سے تو اوپن سورس ایک نعمت کبرٰی کا درجہ رکھتی ہے جہاں نا صرف یہ کہ سافٹ ویر دستیاب ہیں بلکہ انہیں اپنے انداز میں‌ڈھالنے کی پوری آزادی بھی۔ محمد علی مکی کی کاوشیں‌ نہ معلوم کیوں یار لوگوں‌ نے فراموش کردیں‌ جنہوں نے بارہا بہترین مضامین لکھے اور سافٹ ویرز اردو تک میں ڈھالے ہیں۔ اب اگر ان تمام مفت سہولیات کے بعد بھی اسرار یہی ہو کہ جی مجھے تو بی ایم ڈبلیو ہی چاہیے تو کیا آپ کچھ کرسکتے ہیں؟

شکاری صاحب ۔۔ آپ کی سوچ میری نظر میں بالکل درست سمت میں‌ ہے۔

جعفر صاحب۔۔ حبس ہے تو باران رحمت بھی برسے گا۔۔ 

وارث صاحب آپ تو استادوں کی جگہ ہیں۔۔ کتاب کی پائریسی پر کچھ لکھیے۔۔۔ کوئی ایسی راہ نکالیں کہ مصنف، ناشر اور قاری سب کا بھلا ہو۔ میری نظر میں تو کتاب سے حاصل کیا گیا معاشی فائدہ اگر مصنف تک نہ پہنچا تو گناہ سب پر۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>افضل صاحب آپ کے تبصرے پر تو جواب اجمل صاحب نے اپنی تازہ پوسٹ میں دیا ہے۔ جھے خوشی ہے کہ آپ ہم خیال ہیں۔</p>
<p>خرم صاحب آپ کی آمد کا شکریہ۔ میں بالکل یہی بات بار بار زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ سافٹ ویر کی چوری کا جواز ہی کوئی نہیں کہ متبادل فری سافٹ ویر<br />
باآسانی دستیاب ہے اور میعاری بھی ہے۔</p>
<p>جاوید صاحب آپ کے تبصرے کا شکریہ۔ دیکھیے پاکستان کے معروضی حالات کے حوالے سے تو اوپن سورس ایک نعمت کبرٰی کا درجہ رکھتی ہے جہاں نا صرف یہ کہ سافٹ ویر دستیاب ہیں بلکہ انہیں اپنے انداز میں‌ڈھالنے کی پوری آزادی بھی۔ محمد علی مکی کی کاوشیں‌ نہ معلوم کیوں یار لوگوں‌ نے فراموش کردیں‌ جنہوں نے بارہا بہترین مضامین لکھے اور سافٹ ویرز اردو تک میں ڈھالے ہیں۔ اب اگر ان تمام مفت سہولیات کے بعد بھی اسرار یہی ہو کہ جی مجھے تو بی ایم ڈبلیو ہی چاہیے تو کیا آپ کچھ کرسکتے ہیں؟</p>
<p>شکاری صاحب ۔۔ آپ کی سوچ میری نظر میں بالکل درست سمت میں‌ ہے۔</p>
<p>جعفر صاحب۔۔ حبس ہے تو باران رحمت بھی برسے گا۔۔ </p>
<p>وارث صاحب آپ تو استادوں کی جگہ ہیں۔۔ کتاب کی پائریسی پر کچھ لکھیے۔۔۔ کوئی ایسی راہ نکالیں کہ مصنف، ناشر اور قاری سب کا بھلا ہو۔ میری نظر میں تو کتاب سے حاصل کیا گیا معاشی فائدہ اگر مصنف تک نہ پہنچا تو گناہ سب پر۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
