Archive for the سياست Category
رد عمل
راہ چلتے اچانک کوئی آوارہ آپ کے اوپر ایک ننگی گالی اچھال دے تو اس پر رد عمل مختلف قسم کا ہوسکتا ہے۔ مثلا ایک صورت میں آپ برابر کی برہنگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جس سے جواب آںغزل کا ایک سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جس کا اختتام شاید ہی خفت کے سوا کچھ ہو۔ [...]
قاتلوں کو کچھ نا بولو۔
ہر زخمی اور ہلاک ہونے والے پر ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن قاتلوں کو کچھ نا بولو وہ معصوم ہیں دشمن کو پہنچانتے نہیں دشمن تو ان صوبوں میں رہتے ہیں جن کا وزیر اعلی شہباز شریف نہیں ہے۔ وہاں حملے کرو پنجاب میں کیوں کررہے ہو۔ چلو ایک قدم آگے بڑھ [...]
تعلیم کے خلاف مہم کیوں؟
بنیادی طور پر تعلیم یا آپ اسے جدید تعلیم بھی کہہ لیں تو قابل اعتراض نا ہوگا کے میدان میں ہم کس سطح پر کھڑے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ایسی صورت حال میں جب کہ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر جدید تعلیم کے فروغ کے لیے کوششیں کرنی چاہییں ایک منظم مہم کی [...]
اردو کی حتمی کتاب۔
نوٹ۔ یہ مضمون ابن انشاء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہی لکھا گیا ہے؛ مماثلت نا ہونے کی صورت میں ادارہ ذمہ دار ہوگا۔ خودکش دیکھو سامنے خود کش حملہ آور آرہا ہے۔ ابھی چند لمحوں میں پھٹ جائے گا، خود جنت میں جائے گا اور باقی سب کے لیے دنیا جہنم بنادے [...]
آئیے کیری لوُگر بل پڑھیں۔
کیری لوُگر بل آج کل پاکستان میں ایک عظیم موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ کسی کے نزدیک یہ پاکستان کی بہترین فتح اور صدر پاکستان کی سفارتی مہارت کا ثبوت ہے تو دوسری طرف اسے بھارت کی فتح قرار دینے والے بھی موجود ہیں۔ اور تو اور پاکستانی فوج نے بھی اس پر اپنے تحفظات [...]
کانسپریسی پکوڑے
قارئین آج ہم آپ کو کانسپریسی پکوڑے بنانا سکھائیںگے جو آپ فوری طور پر کسی بھی قسم کے حالات میں ہر جگہ بنا سکتے ہیں۔ ویسے تو اس میدان میں جعفر کی با تاج بادشاہی ہے لیکن ایک آدھی ترکیب جو ابھی ابھی نازل ہوئی ہے صرف بہبود عامہ کے لیے شائع کررہے ہیں اور [...]
کی ورڈ: الطاف حسین؛ قادیانی؛
اگر آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیںتو دراصل آپ بھی میری اُس کمینی حرکت کے جھانسے میں آچکے ہیں جس کے لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ “کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے”۔ تو پہلے ہی قدم پر حلفیہ بیان دینا چاہتا ہوں کہ اس پوسٹ کا قطعا کوئی تعلق [...]
شرابی جمہوریت
افغانستان کے آنے والے الیکشن میں امریکی میڈیا کی دلچسپی سمجھ میں آنے والی بات ہے چناچہ آج کل چلتے پھرتے ریڈیو، ٹی وی پر افغانستان کے الیکشن کی خبروں پر نظر پڑجاتی ہے۔ آج این پی آر کا نمائندہ ایک افغان سیاستدان سے گفتگو کررہا تھا دلچسپ مکالمے سے ایک اقتباس قارئین کی دلچسپی [...]
کالم نویس – 2
گرمیوں کی چھٹیاں کالم نگار کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں اور کالم نگار کے وہ دیرینہ دوست جو یورپی و امریکی ممالک میں مقیم ہیں ان پر انتہائی بھاری۔ کالم نویسی کیوں کہ اب ایک پیشہ بن چکا ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ کالم نگار بھی اب پیشہ کرنے لگے ہیں تو کچھ [...]
مُلا نکولا سرکوزی
افق کے داہنے جانب کی انتہا پسندی پر تو ایک عالم میں شور برپا ہے لیکن بائیں بازو کی انتہا پسندی بھی اب پوری طرح کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ اگلے دنوں فرانس کے رہنما نے برقعے کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا اور ان کے نزدیک برقع مذہبی علامت نہیں بلکہ ماتحتی یا [...]
مولانا فضل الرحمن۔ ایک کیفیت
مولانا فضل الرحمن ایک ایسے سیاست دان ہیں جن کے بارے میں آپ کبھی وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں اور کس کے خلاف۔ وہ حکومت میں رہ کر اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور کبھی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر وزارت کے مزے لوٹتے ہیں۔ اپنے فن میں اتنے طاق [...]
